Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
215 - 1087
کرنے والا غلطی سے محفوظ نہیں  جبکہ خاموشی میں  سلامتی اور علم ہے۔ بعض علما اپنے علم کو جمع رکھتے ہیں  وہ نہیں  چاہتے کہ علم دوسروں  کے پاس پایا جائے ایسے لوگ جہنم کے پہلے طبقے میں  ہوں  گے۔ بعض علما وہ ہیں  جو اپنے علم میں  بادشاہ کی طرح ہیں  کہ اگر ان کے علم میں  سے کسی چیز کے متعلق ان پر اعتراض کیا جائے یا ان کے حق میں  کمی کی جائے تو وہ غصے میں  آ جاتے ہیں  ایسے علماجہنم کے دوسرے طبقے میں  ہوں گے۔ کچھ عالم ایسے ہوتے ہیں  جو اپنا علم اور عمدہ گفتگو معزز اور مالدار لوگوں  کو ہی پیش کرتے ہیں  اور ضرورت مندوں  کو اس کا اہل نہیں  سمجھتے ایسے علما جہنم کے تیسرے طبقے میں  ہوں  گے۔ بعض علما اپنے آپ کو فتویٰ دینے کے لئے مقرر کر لیتے ہیں  اور غلط فتویٰ دیتے ہیں ، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تکلف کرنے والوں  کو ناپسند فرماتا ہے ایسے علما جہنم کے چوتھے طبقے میں  ہوں  گے۔ بعض علما دوسروں  کے سامنے یہود ونصاری کا کلام بیان کرتے ہیں  تاکہ اس وجہ سے ان کے علم کی قدر ہو ایسے علما جہنم کے پانچویں  طبقے میں  ہوں  گے۔ کچھ علما اپنے علم کو لوگوں  میں  شہرت، فضیلت اور مروت کا ذریعہ بناتے ہیں  وہ جہنم کے چھٹے طبقے میں  جائیں  گے اور بعض علما ایسے ہیں  کہ جن پر خودپسندی اور تکبر کی کیفیت طاری رہتی ہے، اگر وعظ کریں  تو سختی کرتے ہیں  مگرجب انہیں  نصیحت کی جائے تو ناک چڑھاتے ہیں ، وہ جہنم کے ساتویں  طبقے میں  ہوں  گے۔ لہٰذا اے بھائی ! خاموشی کو لازم کرلو اس کے ذریعے شیطان پر غالب آ جاؤ گے، بغیر تعجب کے مت ہنسو اور بغیر ضرورت کے مت چلو۔ (۱)
	ایک روایت میں  ہے کہ ’’کسی بندے کی تعریف اتنی عام ہوتی ہے کہ مشرق ومغرب کے درمیان کو بھر دیتی ہے جبکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں  اس کی حیثیت مچھر کے پَر برابر بھی نہیں  ہوتی۔‘‘  (۲)
	مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مجلس (وعظ) سے فارغ ہوئے تو ایک خراسانی شخص نے ایک تھیلا آپ کی خدمت میں  پیش کیا جس میں  5ہزار درہم اور 10باریک کپڑے تھے اور عرض کی: ’’اے ابوسعیدعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَجِیْد! یہ درہم خرچ کے لئے اور کپڑے پہننے کے لئے ہیں ۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…جامع بیان العلم وفضلہ، باب جامع فی آداب العلم والمتعلم، فصل فی فضل الصمت وحمدہ، الحدیث:۶۰۶، ص۱۹۱۔ 
	تنزیہ الشریعۃ، کتاب العلم، الفصل الثانی، الحدیث:۵۰، ج۱، ص۲۶۹۔ 
	اللآلی المصنوعۃ، کتاب العلم، ج۱، ص۲۰۴، [قال فیہ: باطل مسنداً وموقوفاً]۔ 
2…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۴۹۔ 
	تذکرۃ الموضوعات، باب الاخلاق المحمود…الخ، ص۱۸۹، (قال فیہ: لم یوجد لاکن فی الصحیحین معناہ)۔