ہوگی۔ پھر ساری مخلوق کے سامنے ایک پکارنے والا پکارے گا: ’’یہ فلاں ابن فلاں ہے۔ اسے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے دنیا میں علم عطا فرمایا تھا لیکن اس نے بندوں پر اس علم کو بیان کرنے میں بخل کیا، اس پر لالچ کی اور اس کے بدلے قیمت وصول کی۔‘‘ پھر اسے عذاب دیا جائے گا یہاں تک کہ سب لوگوں کا حساب ختم ہوجائے۔ (۱)
دین کے بدلے دنیا طلب کرنے کا انجام:
اس سے زیادہ سخت یہ روایت ہے کہ ایک شخص حضرت سیِّدُنا موسیٰ کَلِیْمُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی خدمت کیا کرتا تھا اس نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ مجھے حضرت سیِّدُنا موسیٰ صَفِیُّ اللّٰہ عَلَـیْہِ السَّلَام نے بیان کیا۔ مجھے حضرت سیِّدُنا موسیٰ نَجِیُّ اللّٰہ عَلَـیْہِ السَّلَام نے بتایا۔ مجھے حضرت سیِّدُنا موسیٰ کَلِیْمُ اللّٰہ عَلَـیْہِ السَّلَام نے خبر دی۔ یہاں تک کہ وہ مالدار ہوگیا اور اس کے پاس کافی مال آگیا۔ جب حضرت سیِّدُنا موسیٰ کَلِیْمُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اسے نہ پایا تو اس کے بارے میں پوچھنے لگے لیکن اس کی کوئی خبر نہ ملی حتی کہ ایک دن آپعَلَـیْہِ السَّلَام کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اس کے ہاتھ میں ایک خنزیر تھا جس کے گلے میں سیاہ رسی تھی۔ حضرت سیِّدُنا موسیٰ کَلِیْمُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اس سے دریافت فرمایا: ’’کیا تم فلاں کو جانتے ہو؟‘‘ اس نے کہا: ’’جی ہاں ! یہ خنزیر وہی شخص ہے۔‘‘ آپ عَلَـیْہِ السَّلَام نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کی ’’اسے اس کی سابقہ حالت پر لوٹادے تاکہ میں اس سے اس حالت کا سبب پوچھوں ۔‘‘ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے آپعَلَـیْہِ السَّلَام کی طرف وحی فرمائی کہ ’’اگر تم مجھ سے ان کلمات کے ساتھ دعا کرو جن کے ساتھ آدم اور دوسرے انبیانے کی تھی جب بھی قبول نہ کروں گا لیکن یہ بتا دیتا ہوں کہ اس کے ساتھ یہ معاملہ کیوں کیا اس لئے کہ یہ دین کے بدلے دنیا کماتا تھا۔‘‘ (۲)
علما اور جہنم کے طبقات:
اس سے بھی زیادہ سخت یہ روایت ہے جو حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے موقوفاً اور مرفوعاً دونوں طرح مروی ہے کہ حضور نبی اکرم، نورِمجسم، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ عالم کے فتنے میں سے ہے کہ اسے تقریر سننے سے تقریر کرنا زیادہ پسند ہو حالانکہ تقریر کرنے میں بناوٹ اور مبالغہ ہوجاتا ہے اور تقریر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المعجم الاوسط، من اسمہ محمد، الحدیث:۷۱۸۷، ج۵، ص۲۳۷، بتغیرٍ۔
2…المدخل، فصل فی العالم وکیفیۃ نیتہ…الخ، ج۱، ص۶۲۔