Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
213 - 1087
  گے اور قاضی بادشاہوں  کے زُمرے میں ۔‘‘(۱) اور ہر وہ فقیہ قاضی کے معنی میں  شامل ہے جو اپنے علم سے طلب ِ دنیا کا ارادہ کرتا ہے۔
دنیاکی خاطرعلم دین سیکھنے والوں  کاانجام:
	حضرت سیِّدُنا ابودرداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب، حبیب لبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ایک نبی کی طرف وحی فرمائی کہ جو لوگ دین کے علاوہ (کسی اور مقصد) کے لئے فقہ سیکھتے ہیں ، عمل کے علاوہ کے لئے علم حاصل کرتے ہیں ، عمل آخرت کے بدلے دنیا طلب کرتے ہیں ، لوگوں  کو دکھانے کے لئے اُونی لباس پہنتے ہیں ، ان کے دل بھیڑیوں  کے دلوں  جیسے ہیں ، ان کی زبانیں  شہد سے زیادہ میٹھی اور دل ایلوے سے زیادہ کڑوے ہیں ، وہ مجھے دھوکا دینا چاہتے اور مجھ سے استہزا کرتے ہیں ، ان سے فرمادو کہ میں  ضرور انہیں  ایسے فتنے میں  ڈالوں  گا جو بردبار کو بھی پریشان کر چھوڑے۔‘‘  (۲)
عالم دوطرح کے ہیں :
	حضرت سیِّدُنا ضحاکعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الرَّزَّاق حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت کرتے ہیں  کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب ، دانائے غیوب، مُنَزَّ ہٌ عَنِ الْعُیُوْبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشا د فرمایا: اس امت کے علما دو قسم کے ہیں  ایک وہ جسے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے علم عطا کیا تو اس نے اسے لوگوں  پر خرچ کیا اور اس پر کوئی اُجرت لی نہ ہی اس کے بدلے کوئی قیمت لی، یہی وہ خوش نصیب ہے جس کے لئے آسمان کے پرندے، پانی کی مچھلیاں ، زمین کے چوپائے اور لکھنے والے معزز فرشتے دعائے رحمت کرتے ہیں ، وہ قیامت کے دن بارگاہِ الٰہی میں  ایک معزز سردار ہوکر آئے گا یہاں  تک کہ مرسلین کی رفاقت اختیار کرے گا اور دوسرا وہ ہے کہ جسے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے دنیا میں  علم سے نوازا تو اس نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے بندوں  کے سامنے اس علم کو بیان کرنے میں  بخل سے کام لیا، اس پر لالچ کی اور اس کے بدلے قیمت وصول کی، یہ شخص قیامت کے دن اس حال میں  آئے گا کہ اسے آگ کی لگام ڈالی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…کشف الخفاء، حرف الیاء التحتانیۃ، الحدیث:۳۲۲۸، ج۲، ص۳۶۰۔ 
2…المدخل، فصل فی العالم وکیفیۃ نیتہ …الخ، ج۱، ص۵۰، ’’لافتحن‘‘ بدلہ ’’لاتیحن‘‘۔ 
	الفقیہ والمتفقہ، ماجاء فی ورع المفتی وتحفّظہ، الحدیث:۱۰۶۸، ج۲، ص۳۴۲، بتغیرٍقلیلٍ۔