Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
212 - 1087
	حضرت سیِّدُنا صالح بن کیسان بصریعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’میں  ایسے کئی مشائخ کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَامسے ملاجو بدکار عالمِ حدیث سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ مانگتے تھے۔‘‘  (۱)
	حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سردارِمکہ مکرمہ، سلطانِ مدینہ منورہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو اُس علم کو حاصل کرے جس کے ذریعے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا تلاش کی جاتی ہے اور اس کا مقصد دنیا کا مال حاصل کرنا ہو تو وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو نہیں  پائے گا۔‘‘  (۲)
علمائے دنیا اورعلمائے آخرت کے اوصاف
	اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے برے علما کا یہ وصف بیان کیا کہ وہ علم کے بدلے دنیا کماتے ہیں  جبکہ علمائے آخرت کو وصف خشوع و زہدسے متصف فرمایا۔ چنانچہ، علمائے دنیا کے بارے میں  ارشادفرمایا:
وَ اِذْ اَخَذَ اللہُ مِیۡثَاقَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْکِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّہٗ لِلنَّاسِ وَلَا تَکْتُمُوۡنَہٗ ۫ فَنَبَذُوۡہُ وَرَآءَ ظُہُوۡرِہِمْ وَاشْتَرَوْا بِہٖ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ؕ (پ۴،اٰل عمرٰن:۱۸۷)
ترجمۂ کنزالایمان: اور یاد کرو جب اللّٰہ نے عہد لیا ان سے جنہیں  کتاب عطا فرمائی کہ تم ضرور اسے لوگوں  سے بیان کردینا اور نہ چھپانا تو انہوں  نے اسے اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا اور اس کے بدلے ذلیل دام حاصل کیے۔
	علمائے آخرت کے بارے میں  ارشاد فرمایا:
وَ اِنَّ مِنْ اَہۡلِ الْکِتٰبِ لَمَنۡ یُّؤْمِنُ بِاللہِ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکُمْ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡہِمْ خٰشِعِیۡنَ لِلہِ ۙ لَا یَشْتَرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللہِ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ؕ اُولٰٓئِکَ  لَہُمْ اَجْرُہُمْ عِنۡدَ رَبِّہِمْ ؕ(پ۴،اٰل عمرٰن:۱۹۹)
ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک کچھ کتابی ایسے ہیں  کہ اللّٰہ پر ایمان لاتے ہیں  اور اس پر جو تمہاری طرف اترا اور جو ان کی طرف اترا ان کے دل اللّٰہ کے حضور جھکے ہوئے اللّٰہ کی آیتوں  کے بدلے ذلیل دام نہیں  لیتے یہ وہ ہیں ، جن کا ثواب ان کے ربّ کے پاس ہے۔
	بعض بزرگوں  نے فرمایا: ’’علما (بروزِقیامت) انبیائے کرام عَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے گروہ میں  اٹھائے جائیں 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۴۳۔ 
2…سنن ابی داود، کتاب العلم، باب فی طلب العلم لغیراللّٰہ، الحدیث:۳۶۶۴، ج۳، ص۴۵۱، بتغیرٍ۔