وَ لَوْ لَاۤ اَنۡ ثَبَّتْنٰکَ لَقَدْ کِدۡتَّ تَرْکَنُ اِلَیۡہِمْ شَیْـًٔا قَلِیۡلًا ﴿٭ۙ۷۴﴾(پ۱۵،بنی1 اسرائیل:۷۴)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اگر ہم تمہیں ثابت قدم نہ رکھتے تو قریب تھا کہ تم ان کی طرف کچھ تھوڑا سا جھکتے۔
علم دنیا اور عمل آخرت ہے:
حضرت سیِّدُنا سہل بن عبداللّٰہ تستریعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی نے فرمایا: ’’علم سارے کا سارا دنیا ہے اور اس پر عمل آخرت ہے اور اخلاص کے بغیر تمام اعمال بے کار ہیں ۔‘‘ (۱)
نیزیہ بھی فرمایا کہ ’’تمام لوگ مردہ ہیں سوائے علما کے اور علما سب نشے میں ہیں سوائے عمل کرنے والوں کے اور عمل کرنے والے سب دھوکے میں ہیں سوائے اخلاص والوں کے اور جو مخلص ہیں انہیں خوف لاحق ہے کہ نہ معلوم ان کا خاتمہ کیسا ہوگا۔‘‘ (۲)
حضرت سیِّدُنا ابوسلیمان دارانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے فرمایا: ’’جب آدمی حدیث طلب کرتا ہے یا شادی کرتا ہے یا طلب معاش کے لئے سفر کرتا ہے تو وہ دنیا کی طرف مائل ہوجاتا ہے۔‘‘ (۳)
اس سے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کی مراد عالی سندیں ہیں یا وہ حدیث طلب کرنا جس کی طلب آخرت میں ضرورت نہیں ۔
وہ عالم نہیں :
حضرت سیدنا عیسیٰ رُوْحُ اللّٰہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ارشادفرمایا: ’’وہ شخص اہلِ علم میں سے کیسے ہوسکتا ہے جس کا سفر آخرت کی طرف ہو جبکہ وہ دنیا کے راستوں کی طرف متوجہ ہو اور اس کا شمار علما میں کیسے ہوسکتا ہے جو اس لئے علم نہیں سیکھتا کہ اس پر عمل کرے بلکہ دوسروں کو بتانے کے لئے علم حاصل کرتا ہے۔‘‘ (۴)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…قوت القلوب ، الفصل الحادی والثلاثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۷۱، بتغیرٍ قلیلٍ۔
2…شعب الایمان للبیہقی، باب فی اخلاص العمل…الخ، الحدیث:۶۸۶۸، ج۵، ص۳۴۵۔
3…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۶۹، بتغیرٍ۔
4…شعب الایمان للبیہقی، باب فی نشرالعلم، الحدیث:۱۹۱۷، ج۲، ص۳۱۴، بتغیرٍقلیلٍ۔
قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون: کتاب العلم وتفضیلہ، ذکربیان تفضیل علوم…الخ، ج۱، ص۲۳۹۔