Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
210 - 1087
معرفت الٰہی سے محرومی کاسبب:
	ایک عارف سے پوچھا گیاکہ ’’جس کی آنکھوں کی ٹھنڈک گناہ ہوں  کیا وہ معرفت الٰہی حاصل نہیں  کرسکتا؟‘‘ فرمایا: ’’مجھے اس بات میں کوئی شک نہیں  ہے کہ جودنیا کو آخرت پرترجیح دیتاہے وہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی معرفت نہیں  رکھتا جبکہ یہ اس شخص سے (کہ جس کی آنکھوں  کی ٹھنڈک گناہ ہوں ) بہت کم ہے۔‘‘
	یہ مت سمجھنا کہ علمائے آخرت کے ساتھ ملنے کے لئے صرف ترکِ مال کافی ہے بلکہ مقام ومرتبہ مال سے زیادہ نقصان دہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت سیِّدُنا بشر حافی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی نے فرمایا: حَدَّثَنَا دنیا کے دروازوں  میں  سے ایک دروازہ ہے۔ لہٰذا جب تم کسی شخص کو حَدَّثَنَا کہتے سنو تو جان لو کہ وہ کہتا ہے: ’’مجھے جگہ دو۔‘‘  (۱)
	حضرت سیِّدُنا بشر حافیعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی نے 10سے زیادہ کتابوں  کے بستے اور ٹوکرے دفن کردئیے تھے اور فرماتے تھے: ’’مجھے خواہش ہے کہ میں  حدیث بیان کروں  اور جب مجھے حدیث بیان کرنے کی خواہش نہ رہے گی تو میں  ضرور حدیث بیان کروں  گا۔‘‘  (۲)
	آپ اور آپ کے علاوہ دوسرے بزرگوں  کا فرمان ہے کہ ’’جب تجھے حدیث بیان کرنے کی خواہش ہو تو خاموش رہ اور جب خواہش نہ رہے تب حدیث بیان کر۔‘‘  (۳)
	یہ اس لئے کہ فائدہ پہنچانے اور تعلیم کے منصب کی لذت دنیا کی ہر لذت سے بڑھ کر ہے تو جس نے اس معاملے میں  اپنی خواہش کو پورا کیا وہ دنیا کے طلبگاروں  میں  سے ہے۔ اسی لئے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوریعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: ’’حدیث بیان کرنے کا فتنہ مال اور بال بچوں  کے فتنے سے سخت تر ہے۔‘‘  (۴)
	اور اس فتنے کا خوف کیوں  نہ کیا جائے جبکہ سیِّدُ المرسلین، خَاتَمُ النَّبِیِّیْن،رَحْمَۃُ لِّلْعٰلَمِیْنصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فرمایا گیا:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون: کتاب العلم وتفضیلہ، ذکرفضل علم المعرفۃ…الخ، ج۱، ص۲۳۳۔ 
2…المرجع السابق،ص۲۶۸۔		
3…المرجع السابق، بتغیرٍ۔
4…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون: کتاب العلم وتفضیلہ، ذکرفضل علم المعرفۃ…الخ، ج۱،ص۲۶۸،بتغیرٍ۔ 
	حلیۃ الاولیاء، عبدالرحمن بن مہدی، الحدیث:۱۲۸۵۷، ج۹، ص۶، قول عبدالرحمن بن مہدی، بتغیرٍ۔