Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
209 - 1087
	حضرت سیِّدُنا مالک بن دینار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار نے فرمایا: میں  نے ایک سابقہ کتاب میں  پڑھا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: ’’جو عالم دنیا سے محبت کرتا ہے میں  اسے سب سے کم سزا یہ دیتا ہوں  کہ اس کے دل سے اپنی مناجات کی لذت نکال دیتا ہوں ۔‘‘  (۱)
علم نور اور گناہ تاریکی ہے:
	ایک شخص نے اپنے بھائی  کو لکھا کہ ’’بیشک تمہیں  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے علم عطا کیا گیا ہے۔ لہٰذا گناہوں  کی تاریکی سے علم کے نور کو بجھا نہ دینا کہ اس دن اندھیرے میں  رہ جاؤ جس دن علم والے اپنے علم کے نور میں  دوڑیں  گے۔‘‘(۲)
اے اصحابِ علم !شریعت محمدیہ کہاں  ہے ؟
	حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن معاذ رازی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی علمائے دنیا سے فرمایا کرتے تھے: ’’اے اصحابِ علم! تمہارے محلات قیصری (یعنی شاہِ روم قیصر کے محلات کی طرح) ہیں ۔ تمہارے گھر کسریٰ (یعنی شاہِ ایران) کے گھروں  جیسے ہیں ۔ تمہارے کپڑے طاہری (یعنی عبداللّٰہ بن طاہر وزیر کے کپڑوں  کی مثل) ہیں ۔ تمہارے موزے جالوتی (یعنی جابر بادشاہ جالوت کے موزوں  کی مانند)، سواریاں  قارونی (یعنی قارون کی سواریوں  جیسی) اور برتن فرعونی (یعنی فرعون کے برتنوں  جیسے) ہیں ۔ تمہارے گناہ دورِجاہلیت کے افعال جیسے اور تمہارے مذاہب شیطانی ہیں  تو پھرشریعتِ محمدیہ کہاں  ہے؟‘‘ (۳)
	کسی شاعر نے کیا خوب کہا:
وَرَاعِی الشَّاۃِ یَحْمِی الذِّئْبَ عَنْہَا		فَکَیْفَ اِذَا الرُّعَاۃُ لَہَا ذِءَابُ
	ترجمہ:بکریوں  کا چرواہا بھیڑیے سے بکریوں  کی حفاظت کرتا ہے تو اس وقت کیا حال ہوگا جب چرواہے خود ہی بھیڑئیے بن جائیں  گے۔	ایک دوسرے شاعر نے کہا:
یَا مَعْشَرَ الْعُلَمَاءِ! یَا مِلْحَ الْبَلَدِ!		 مَا یَصْلُحُ الْمِلْحُ اِذَا الْمِلْحُ فَسَدَ
	ترجمہ: اے علما کے گروہ!اے شہر وں  کے نمک! جب نمک خود ہی خراب ہوجائے گا تو وہ کسی کو کیسے ٹھیک کرے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…مرقاۃ المفاتیح، کتاب الدعوات، تحت الحدیث:۲۲۸۸، ج۵، ص۸۷۔ 
2…فیض القدیر، حرف الھمزۃ ، تحت الحدیث:۱۱۳، ج۱، ص۱۵۵۔ 
3…حیاۃ الحیوان الکبری، باب الذال العجمۃ، الذئب، ج۱، ص۵۰۴، بتغیرٍ۔