دنیادار عالم کی کم سے کم سزا:
حضرت سیِّدُنا داؤدعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعات میں ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: ’’جو عالم میری محبت پراپنی خواہش کو ترجیح دیتا ہے میں اسے کم سے کم سزا یہ دیتا ہوں کہ اسے اپنی مناجات کی لذت سے محروم کردیتا ہوں ۔ اے داؤد! میرے متعلق کسی ایسے عالم سے نہ پوچھنا جسے دنیا نے نشے میں ڈال دیا ہو، وہ تمہیں میری محبت کے راستے سے روک دے گا، یہ لوگ میرے بندوں کا راستہ کاٹنے والے ہیں ۔اے داؤد! جب تم میرے کسی طالب کو دیکھو تو اس کے خادم بن جاؤ۔ اے داؤد! جو کسی بھاگے ہوئے کو میری بارگاہ میں لے کر آتا ہے میں اسے باخبر لکھ دیتا ہوں اور جسے میں باخبر لکھ دوں اسے کبھی عذاب نہ دوں گا۔‘‘ (۱)
حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: ’’علما کی سزا دل کا مردہ ہوجانا ہے اور دل کا مردہ ہونا یہ ہے کہ آخرت کے عمل کے بدلے دنیا طلب کی جائے۔‘‘ (۲)
حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن معاذ رازی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی نے فرمایا: ’’علم وحکمت کا نور اسی وقت رخصت ہوتا ہے جب انہیں طلب دنیا کا ذریعہ بنایا جائے۔‘‘ (۳)
حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’جب تم کسی عالم کو مالداروں کے پاس آتا جاتا دیکھو تو جان لو کہ وہ چور ہے۔‘‘ (۴)
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’جب تم کسی عالم کو دنیا سے محبت کرنے والا پاؤ تو اسے اپنے دین کے معاملے میں مشکوک جانو کیونکہ ہر محبت کرنے والا اس چیز میں غور وفکر کرتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔‘‘ (۵)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۴۴۔
2…شعب الایمان للبیہقی،باب فی نشر العلم، الحدیث:۱۸۳۷، ج۲، ص۲۹۶۔
3…موسوعۃ الامام ابن ابی الدنیا، کتاب ذمّ الدنیا، الحدیث:۴۷۶، ج۵، ص۱۹۳۔
4…مختصر منہاج القاصدین، الربع الاوّل، ج۱، ص۶۱۔
5…جامع بیان العلم وفضلہ، باب ذمّ الفاجر من العلماء…الخ ،ص۲۴۲۔