Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
207 - 1087
دوسری فصل:		عُلمائے ا ٓخرت کی 12نشانیاں 
{1}…علمائے آخرت کی نشانیوں  میں  سے ایک یہ ہے کہ عالم اپنے علم سے دنیا طلب نہ کرے کیونکہ عالم کا سب سے کم درجہ یہ ہے کہ وہ دنیا کے حقیر، گھٹیا، گدلا اور ناپائیدار ہونے کو جانے نیز آخرت کے عظیم ہونے، ہمیشہ رہنے، اس کی نعمتوں  کے خالص ہونے اور آخرت کی سلطنت کے بڑا ہونے کا علم رکھتا ہو اور یہ جانتا ہو کہ دنیا اور آخرت ایک دوسرے کی ضد ہیں ۔
دنیا وآخرت کی مثال:
	 یہ دونوں  دو سوکنوں  کی طرح ہیں  اگر ایک کو راضی رکھو گے تو دوسری کو ناراض کر بیٹھو گے۔ ترازو کے دو پلڑوں  کی مانند ہیں ، ایک پلڑا بھاری ہوگا تو دوسرا ہلکا ہوگا۔ مشرق ومغرب کی مثل ہیں  ایک سے جتنا قریب ہوگے دوسری سے اتنا دور ہوجاؤ گے۔ دو پیالوں  کی طرح ہیں  جن میں  سے ایک بھرا ہوا ہے اور دوسرا خالی، بھرے ہوئے پیالے سے جس قدر دوسرے میں  ڈالتے جاؤ گے اسی قدر بھرا ہو ا خالی ہوتا جائے گا یہاں  تک کہ جب خالی پیالہ بھر جائے گا تو بھرا ہوا خالی ہوجائے گا۔ 
	پس جو شخص دنیا کے حقیر ہونے، گدلا ہونے اور اس کی لذتوں  کے اس کی تکلیفوں  کے ساتھ ملے ہونے کو نہ جانے اور اسے یہ معلوم نہ ہو کہ دنیا کی خالص نعمتیں  جلد ختم ہوجاتی ہیں  تو اس کی عقل خراب ہے کیونکہ مشاہدہ اور تجربہ اس کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ لہٰذا وہ شخص علما میں  کیسے شمار ہوسکتا ہے جسے عقل نہیں ؟ اور جو آخرت کے معاملے کی عظمت اور اس کے دوام کا علم نہیں  رکھتا وہ تو کافر ہے۔ اس کا ایمان چھین لیا گیا ہے۔ لہٰذا جس کے پاس ایمان ہی نہیں  وہ علما میں  سے کیسے ہوسکتا ہے؟ اور جو شخص یہ نہیں  جانتا کہ دنیا آخرت کی ضد ہے انہیں  جمع کرنا ایک ایسی لالچ ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں  وہ تمام انبیائے کرام عَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی شریعتوں  سے ناواقف ہے بلکہ وہ تو پورے قرآن کا منکر ہے۔ اس کا شمار گروہِ علما میں  کیسے ہوسکتا ہے؟ اور جو یہ سب کچھ جانتے ہوئے آخرت کو دنیا پر ترجیح نہ دے وہ شیطان کا قیدی ہے۔ اس کی خواہش نے اسے برباد کردیا اور اس پر اس کی بدبختی غالب آ گئی۔ لہٰذا اس درجے کا آدمی علما کے زمرے میں  کیسے آسکتا ہے؟