Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
206 - 1087
یَلْہَثْ اَوْ تَتْرُکْہُ یَلْہَثۡ ؕ (پ۹،الاعراف:۱۷۶)
کرے تو زبان نکالے اور چھوڑ دے تو زبان نکالے۔       
	 یہی حال بد عمل عالم کا ہے۔ بلعم کوکِتَابُ اللّٰہ کا علم دیا گیا تو وہ خواہشات کی طرف مائل ہوگیا۔ چنانچہ، اسے کتے سے تشبیہ دی گئی یعنی اسے حکمت ملے یا نہ ملے وہ خواہشات کی طرف ہانپتا ہے۔
بُرے علما کی مثال:
	حضرت سیِّدُنا عیسیٰ رُوْحُ اللّٰہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ارشادفرمایا: ’’ برے علما کی مثال اس چٹان کی طرح ہے جو نہر کے کنارے واقع ہو نہ خود پانی پئے اور نہ پانی کو کھیتی تک جانے دے۔ برے علما کی مثال بیت الخلا کی اس نالی کی طرح ہے جس کے ظاہر پرتو چونا کیا ہوا ہو جبکہ باطن گندا اور ناپاک ہو اور برے علما کی مثال قبروں  کی طرح ہے جن کا ظاہرتو پختہ ہو مگر اندر مردوں  کی ہڈیاں  ہوں ۔‘‘  (۱)
	ان اَحادیث اور آثار سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قیامت کے دن دنیادار عالم کا حال دوسرے لوگوں  سے گھٹیا ہوگا اور اسے جاہل سے بھی سخت عذاب ہوگا جبکہ کامیاب ومقرب لوگ علمائے آخرت ہیں ۔ ان کی کچھ نشانیاں  ہیں  جو درج ذیل ہیں ۔
 {…اہل بیت سے حسن سلوک…}
	 امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مروی ہے کہ حضور نبی پاک، صاحب ِ لولاک، سیاحِ افلاک صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو میرے اہل بیت میں سے کسی کے ساتھ اچھا سلوک کرے گا میں روزِ قیامت اس کا صلہ اسے عطا فرماؤں گا۔‘‘ (الجامع الصغیرللسیوطی،الحدیث:۸۸۲۱،ص۵۳۳)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص ۲۴۴۔ 
	فیض القدیرللمناوی، حرف الشین، تحت الحدیث:۴۸۶۴، ج۴، ص۲۰۶۔