Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
205 - 1087
تھا مگر خود اس کا ارتکاب کرتا تھا۔‘‘  (۱)
	عالم کی نافرمانی پر اسے دُگنا عذاب محض اس وجہ سے دیا جائے گا کہ وہ علم ہونے کے باوجود معصیت میں  مبتلا ہوا۔ اسی وجہ سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
اِنَّ الْمُنٰفِقِیۡنَ فِی الدَّرْکِ الۡاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ۚ (پ۵،النسآء:۱۴۵)
ترجمۂ کنزالایمان:بے شک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں  ہیں ۔
	اس لئے کہ انہوں  نے جاننے کے بعد انکار کیا اور یہودیوں  کو عیسائیوں  سے بدتر قرار دیا حالانکہ (اکثر) یہود نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے اولاد ثابت نہیں کی اور نہ انہوں  نے یہ کہا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تین خداؤں  میں  سے تیسرا ہے لیکن ان کو بدترین قرار دینے کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ جاننے کے بعد منکر ہوئے۔
	 اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
یَعْرِفُوۡنَہٗ کَمَا یَعْرِفُوۡنَ اَبْنَآءَہُمْؕ(پ۲،البقرۃ:۱۴۶)
ترجمۂ کنزالایمان: وہ اس نبی کو ایسا پہچانتے ہیں  جیسے آدمی اپنے بیٹوں  کو پہچانتا ہے۔
	ایک مقام پر فرمایا:
فَلَمَّا جَآءَہُمۡ مَّا عَرَفُوۡا کَفَرُوۡا بِہٖ ۫ فَلَعْنَۃُ اللہِ عَلَی الْکٰفِرِیۡنَ﴿۸۹﴾(پ۱،البقرۃ:۸۹)
ترجمۂ کنزالایمان: تو جب تشریف لایا ان کے پاس وہ جانا پہچانا اس سے منکر ہو بیٹھے تو اللّٰہ کی لعنت منکروں  پر۔
	اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے بلعم بن باعوراء کا واقعہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
وَاتْلُ عَلَیۡہِمْ نَبَاَ الَّذِیۡۤ اٰتَیۡنٰہُ اٰیٰتِنَا فَانۡسَلَخَ مِنْہَا فَاَتْبَعَہُ الشَّیۡطٰنُ فَکَانَ مِنَ الْغٰوِیۡنَ﴿۱۷۵﴾(پ۹،الاعراف:۱۷۵)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اے محبوب! انہیں  اس کا احوال سناؤ جسے ہم نے اپنی آیتیں  دیں  تو وہ ان سے صاف نکل گیا تو شیطان اس کے پیچھے لگا تو گمراہوں  میں  ہوگیا۔
	یہاں  تک کہ فرمایا:
فَمَثَلُہٗ کَمَثَلِ الْکَلْبِ ۚ اِنۡ تَحْمِلْ عَلَیۡہِ
ترجمۂ کنزالایمان: تو اس کا حال کتے کی طرح ہے تو اس پر حملہ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح مسلم، کتاب الزھد والرقائق، باب عقوبۃ من یأمر بالمعروف…الخ، الحدیث:۲۹۸۹، ص۱۵۹۵۔