جس کے ساتھ دنیا کھیلتی ہے۔‘‘ (۱)
{9}…حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: ’’ علما کی سزا دل کا مردہ ہوجانا ہے اور دل کا مردہ ہونا یہ ہے کہ آخرت کے عمل کے بدلے دنیا طلب کی جائے۔‘‘ (۲)
پھرآپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے یہ اشعار پڑھے:
عَجِبْتُ لِمُبْتَاعِ الضَّلَالَۃِ ِبالْھَدْیِ وَمَنْ یَشْتَرِیْ دُنْیَاہ بِالدِّیْنِ اَعْجَبُ
وَاَعْجَبُ مِنْ ھٰذَیْنِ مَنْ بَاعَ دِیْنَہ بِدُنْیَا سِوَاہ فَہُوْ مِنْ ذَیْنِ اَعْجَبُ
ترجمہ: (۱)مجھے تعجب ہے اس شخص پر جو ہدایت کے بدلے گمراہی خریدتا ہے اور جو دین کے بدلے دنیا خریدتا ہے وہ اس سے بھی زیادہ عجیب ہے۔
(۲)اور ان دونوں سے زیادہ تعجب اس پر ہے جو کسی اور کی دنیا سنوارنے کے لئے اپنا دین بیچتا ہے، وہ ان دونوں سے زیادہ عجیب ہے۔
بے عمل عالم کا انجام:
حضورنبی ٔکریم، رَء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ عالم کو سخت عذاب دیا جائے گا، اس کے عذاب کی شدت کو بڑا سمجھتے ہوئے جہنمی اس کے پاس آئیں گے ۔‘‘ (۳)
اس سے بدعمل عالم مراد ہے۔
حضرت سیِّدُنا اسامہ بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور سیدعالم،نورمجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ارشاد فرماتے سنا کہ قیامت کے دن عالم کو لایا جائے گا اور اسے آگ میں ڈالا جائے گا جس سے اس کی آنتیں باہر آجائیں گی وہ ا ن کے گرد ایسے چکر لگائے گا جیسے گدھا چکی کے گرد چکر لگاتا ہے، جہنمی اس کے پاس آئیں گے اور پوچھیں گے: ’’تجھے کیا ہوا؟‘‘ وہ کہے گا: ’’میں نیکی کا حکم دیتا تھا مگر خود عمل نہیں کرتاتھا، برائی سے منع کرتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المقاصد الحسنۃ، حرف الھمزۃ، الحدیث:۸۹، ص۷۰۔
2…شعب الایمان للبیھقی، باب فی نشر العلم، الحدیث:۱۸۳۷، ج۲، ص۲۹۶۔
3…صحیح مسلم، کتاب الزھد والرقائق، باب عقوبۃ من یأمر بالمعروف…الخ، الحدیث:۲۹۸۹، ص۱۵۹۵۔