Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
203 - 1087
{3}…ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں  عرض کی: ’’میں  علم حاصل کرنا چاہتا ہوں  لیکن ڈرتا ہوں  کہ اسے ضائع کر بیٹھوں  گا۔‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’علم کو ضائع کرنے کے لئے اسے چھوڑ دینا ہی کافی ہے۔‘‘  (۱)
{4}…حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن عتبہرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے کسی نے پوچھا: ’’لوگوں  میں  سب سے زیادہ ندامت وشرمندگی کسے ہوگی؟‘‘ فرمایا: ’’دنیا میں  اسے جو کسی ناشکرے سے بھلائی کرتا ہے اور موت کے وقت گنہگار عالم کو۔‘‘  (۲)
{5}…نحو اور لغت کے امام حضرت سیِّدُنا امام خلیل بن احمدعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الصَّمَد نے فرمایا: ’’ آدمی چار قسم کے ہوتے ہیں : (۱)…جو علم رکھتا ہے اور جانتا ہے کہ اسے علم ہے، وہ عالم ہے اس کی اتباع کرو۔ (۲)…جو علم رکھتا ہے مگر یہ نہیں  جانتا کہ اسے علم ہے ایسا شخص سو رہا ہے اسے جگا دو۔ (۳)…جسے علم نہیں  اور وہ جانتا ہے کہ اس کے پاس علم نہیں ، ایسا شخص ہدایت کا طالب ہے اسے ہدایت دو ۔ (۴)…وہ شخص جس کے پاس علم نہیں  اور اسے معلوم بھی نہیں  کہ اس کے پاس علم نہیں ، ایسا شخص جاہل ہے اسے چھوڑ دو۔‘‘  (۳)
{6}…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: ’’علم عمل کو پکارتا ہے وہ سن لے تو ٹھیک ورنہ علم چلا جاتا ہے۔‘‘  (۴)
{7}…حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’بندہ اس وقت تک عالم رہتا ہے جب تک علم حاصل کرتا رہے اور جب یہ سمجھ لے کہ وہ عالم بن چکا ہے تو وہ جاہل ہوتا ہے۔‘‘  (۵)
{8}…حضرت سیِّدُنا فضیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’ مجھے تین طرح کے لوگوں پر رحم آتا ہے: ’’(۱)…کسی قوم کا معزز شخص جو ذلیل ہو جائے۔ (۲)…کسی قوم کا مالدار شخص جو محتاج ہو۔ (۳)…اس عالم پر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…تاریخ مدینۃ دمشق لابن عساکر، ابوہریرۃ الدوسی۸۸۹۵، ج۶۷، ص۳۶۸۔ 
2…المستطرف فی کل فن مستظرف، الباب الرابع فی العلم والادب…الخ، ج۱، ص۴۱۔ 
3…عیون الاخبارللدینوری، کتاب العلم والبیان، ج۲، ص۱۴۳۔ 
4…جامع بیان العلم وفضلہ، باب جامع القول فی العمل بالعلم، ص۲۵۸۔ 
5…المجالسۃ وجواہر العلم، الجزء الثانی، الحدیث:۳۰۷، ج۱، ص۱۶۳۔