{6}…جو علم کو چھپائے گا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اسے آگ کی لگام ڈالے گا۔ (۱)
{7}…پیارے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’مجھے تم پر دجال سے زیادہ دوسری چیز کا خوف ہے۔‘‘ عرض کی گئی: ’’ وہ کیا ہے؟‘‘ ارشادفرمایا: ’’گمراہ کُن ائمہ۔‘‘ (۲)
{8}…جس کے علم میں تو اضافہ ہوتاہے لیکن ہدایت نہیں بڑھتی اس کی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے دوری ہی بڑھتی ہے۔ (۳)
حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ رُوْحُ اللّٰہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ارشادفرمایا: ’’کب تک تم رات میں چلنے والوں کے لئے راستے صاف کرتے رہو گے اور خود حیرت زدہ لوگوں کے ساتھ کھڑے رہو گے۔‘‘ (۴)
مذکورہ اَحادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ علم کا خطرہ بہت زیادہ ہے، کیونکہ عالم یاتودائمی ہلاکت میں مبتلا ہوجاتا ہے یا دائمی سعادت پاجاتا ہے اور علم میں غور وخوض کرنے سے اگر وہ سعادت نہ پائے تو سلامت بھی نہیں رہتا۔
آفاتِ علم کے متعلق نو اقوالِ بُزُرگانِ دین
{1}…امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’مجھے اس امت پر سب سے زیادہ خوف صاحب ِعلم منافق کا ہے۔‘‘ لوگوں نے عرض کی:’’صاحب علم منافق کیسے ہوسکتا ہے؟‘‘ فرمایا: ’’زبان کا عالم ہو گا جبکہ دل اور عمل کا جاہل۔‘‘ (۵)
{2}…حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: ’’ان لوگوں میں سے نہ ہونا جنہوں نے علما سے علم اور حکما سے نرم اشاروں والی گفتگو کو توحاصل کرلیا مگر عمل میں جاہلوں کی طرح رہے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…سنن ابن ماجہ، المقدمۃ، باب من سئل عن علم فکتمہ، الحدیث:۲۶۵، ج۱، ص۱۷۲۔
العلل المتناھیۃ لابن الجوزی، کتاب العلم، باب اثم من سئل عن علم، الحدیث:۱۴۰، ج۱، ص۱۰۴۔
2…المسند للامام احمد بن حنبل، مسند الانصار، حدیث ابی ذر الغفاری، الحدیث:۲۱۳۵۴۔۲۱۳۵۵، ج۸، ص۶۷۔
3…المقاصد الحسنۃ، حرف المیم، الحدیث:۱۰۷۸، ص۴۰۷۔
المجالسۃ وجواھر العلم، الجزء العاشر، الحدیث:۱۲۸۷، ج۲، ص۴۶۔
4…صفۃ الصفوۃ، محمد بن صبیح بن السماک:۴۵۵، ج۳، ص۱۱۵۔
5…الاحادیث المختارۃ، ابوعثمان عبدالرحمن عن عمر رضی اللّٰہ عنہ، الحدیث:۲۳۶، ج۱، ص۳۴۴۔
المسند للامام احمد بن حنبل، مسند عمر بن الخطاب، الحدیث:۳۱۰، ج۱، ص۱۰۱۔