باب نمبر6: علم کی آفات،علمائے آخرت اورعلمائے
سُوء کی علامات کا بیان
پہلی فصل: علمائے سوء کی نشانیاں
علم اور علما کے جو فضائل مروی ہیں ہم انہیں بیان کرچکے ہیں ۔ اب یہ بیان کریں گے کہ علمائے سوء کے بارے میں بہت سخت سزائیں مروی ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ بروزِقیامت لوگوں میں سب سے سخت عذاب برے علما کو ہو گا۔ اس لئے علمائے دنیا اور علمائے آخرت کے درمیان فرق کرنے والی علامات کی پہچان اہم امور میں سے ہے۔ علمائے دنیا سے مراد برے علما ہیں جن کا مقصد علم سے دنیا کی نعمتوں اور دنیاداروں کی نظر میں مقام ومرتبہ حاصل کرنا ہے۔
آفات علم کے متعلِّق آٹھ فرامینِ مُصطَفٰے
{1}…بے شک بروزِقیامت لوگوں میں سے زیادہ سخت عذاب اس عالم کو ہو گا جسے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کے علم سے نفع نہ دیا۔ (۱)
{2}…آدمی اس وقت تک عالِم نہیں ہوسکتا جب تک اپنے علم پر عمل نہ کرے۔ (۲)
{3}…علم دوہیں : ایک وہ جو زبان پر ہوتا ہے، یہ مخلوق کے خلاف اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی حجت ہے اور دوسرا وہ جو دل میں ہوتا ہے، یہ علم نفع بخش ہے۔ (۳)
{4}…آخری زمانے میں جاہل عابد اور فاسق علما ہوں گے۔ (۴)
{5}…علم اس لئے حاصل نہ کرو کہ اس کے ذریعے علما پر فخر کرو گے، جاہلوں سے جھگڑا کرو گے اور لوگوں کو اپنی طرف مائل کرو گے، جو ایسا کرے گا وہ آگ میں جائے گا۔ (۵)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…شعب الایمان للبیہقی، باب فی نشرالعلم، الحدیث:۱۷۷۸، ج۲، ص۲۸۵۔
2…فیض القدیرللمناوی، حرف العین، تحت الحدیث:۵۶۵۹، ج۴، ص۴۸۹۔
3…تاریخ بغداد، احمد بن الفضل:۲۴۹۵، ج۵، ص۱۰۸۔
4…المستدرک، کتاب الرقاق، باب اربع اذا کان فیک…الخ، الحدیث:۷۹۵۳، ج۵، ص۴۴۹۔
5…سنن ابن ماجہ،المقدمۃ، باب الانتفاع بالعلم والعمل بہ، الحدیث:۲۵۳۔۲۵۴، ج۱، ص۱۶۵۔