Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
200 - 1087
اَتَاۡمُرُوۡنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنۡسَوْنَ اَنۡفُسَکُمْ(پ۱،البقرۃ:۴۴)
ترجمۂ کنزالایمان:کیا لوگوں  کو بھلائی کا حکم دیتے ہو اور اپنی جانوں  کو بھولتے ہو۔
	اسی وجہ سے عالم کے گناہوں  کا بوجھ جاہل کے گناہوں  کے بوجھ سے زیادہ ہوتا ہے کیونکہ عالم کے پھسلنے سے خلق کثیر پھسل جاتی ہے اور لوگ اس کی پیروی کرتے ہیں ۔
	 حدیث مبارَکہ میں  ہے کہ ’’جس نے کوئی برا طریقہ جاری کیاتو اس پر اس برے طریقہ کا گناہ بھی ہے اور اس پر عمل کرنے والوں  کا گناہ بھی۔‘‘ 
عالم اور جاہل کا دھوکا:
	امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا: ’’دو شخصوں  نے میری کمر توڑ ڈالی ہے ایک بے عزَّت عالم اور دوسرا جاہل عبادت گزار۔ پس جاہل عبادت گزار بن کر لوگوں  کو دھوکا دیتا ہے اور عالم اپنی رسوائی سے لوگوں  کو دھوکے میں  مبتلا کرتا ہے۔‘‘  (۱)واللّٰہُ اَعْلَم
  ٭…٭…٭…٭…٭…٭

{…مدنی قافلوں اورفکرمدینہ کی برکتیں …}
	’’دعوتِ اسلامی ‘‘کے سنتوں کی تربیت کے’’ مدنی قافلوں ‘‘میں سفراورروزانہ’’ فکرِمدینہ ‘‘ کے ذریعے’’ مدنی انعامات‘‘ کارسالہ پرکرکے ہرمدنی (اسلامی) ماہ کے ابتدائی 10 دن کے اندراندر اپنے یہاں کے(دعوت اسلامی کے) ذمہ دارکوجمع کروانے کامعمول بنالیجئے۔ اِنْ شَآءَاللہُ عَزَّ وَجَلَّ اس کی برکت سے’’پابندسنت‘‘ بننے ، ’’گناہوں سے نفرت‘‘ کرنے اور’’ایمان کی حفاظت‘‘ کے لئے کڑہنے کا ذہن بنے گا۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…فیض القدیرللمناوی ،حرف النون، تحت الحدیث:۹۲۲۴، ج۶، ص۳۷۸۔