میں شامل ہونا آسان نہ ہوگا جس کی وجہ سے اس کے اور گناہوں کے درمیان حائل دیوار ہٹ جائے گی اور وہ سرکش شیطان بن کر خود کو بھی ہلاک کرے گا اور دوسروں کو بھی۔ بلکہ عوام کے ساتھ باریک علوم کے حقائق کے بارے میں گفتگو نہیں کرنی چاہئے، انہیں صرف عبادات سکھانی چاہئیں اور جن معاملات میں وہ مشغول ہوں ان میں امانت داری کی تعلیم دینی چاہئے، جنت کی رغبت اور دوزخ کی ہیبت سے ان کے دلوں کو بھر دینا چاہئے جیسا کہ قرآنِ حکیم نے بیان کیا ہے اور ان کے سامنے کسی شبہ کو حرکت نہ دی جائے، کیونکہ کبھی وہ شبہ عام آدمی کے دل کو پکڑ لیتا ہے پھر اس کا حل اسے دشوار ہوتا ہے نتیجۃً وہ بد بخت وہلاک ہوجاتا ہے۔
مختصر یہ کہ عوام کے سامنے بحث ومباحثہ کا دروازہ نہ کھولا جائے ورنہ ان کے وہ معاملات معطل ہوکر رہ جائیں گے جن سے لوگوں کے نظام اور خواص کی زندگی کی بقا ہے۔
استاذ اور شاگردوں کی مثال:
{8}… اُستاذ اپنے علم پر عمل کرتا ہو تاکہ اس کے قول وفعل میں یکسانیت ہو ، اس لئے کہ علم باطنی نگاہوں سے جبکہ عمل ظاہری آنکھوں سے دیکھا جاتا ہے اور ظاہری آنکھ والوں کی کثرت ہے لہٰذا اگر اس کا عمل علم کے خلاف ہوگا تو ہدایت میں رکاوٹ آئے گی اور ہر وہ شخص جو کوئی چیز کھاکر لوگوں سے کہتا ہے کہ اسے مت کھانا یہ زہرقاتل ہے، تو لوگ اس کا مذاق اڑاتے اور اس پر تہمت لگاتے ہیں اور جس چیز سے لوگوں کو منع کیا جائے اس کی حرص انہیں زیادہ ہوجاتی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ چیز اچھی اور لذیذ نہ ہوتی تو وہ خود اسے اختیار نہ کرتا۔ ہدایت دینے والے استاذ اور شاگردوں کی مثال ایسی ہے جیسے نقش اور مٹی، لکڑی اور سائے کی، کہ اُس چیز سے مٹی میں کیسے نقش بنے گا کہ جس میں خود نقش نہیں اور جب لکڑی ہی ٹیڑھی ہوگی تو اس کاسایہ کیونکر سیدھا ہوگا۔
اسی مضمون کو شعر میں یوں بیان کیا گیا ہے:
لَا تَنْہِ عَنْ خُلْقٍ وَتَاْتِیْ مِثْلَہ عَارٌ عَلَیْکَ اِذْ فَعَلْتَ عَظِیْمٌ
ترجمہ: لوگوں کو ایسی بات سے منع نہ کر جسے تو خود کرتا ہے اگر تو ایسا کرے تو یہ تیرے لئے بڑی شرم کی بات ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: