Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
198 - 1087
فَاِنْ لَطُفَ اللّٰہُ اللَّطِیْفُ بِلُطْفِہٖ		وَصَادَفَ اَھْلًا لِلْعُلُوْمِ وَلِلْحِکَم
نَشَرْتُ مُفِیْدًا اِسْتَفَدْتُ مُوَدَّۃً		وَاِلَّا فَمَخْزُوْنٌ لَدَیَّ وَمُکْتَتَم
فَمَنْ مَنَحَ الْجُہَّالَ عِلْمًا اَضَاعَہ		وَمَنْ مَنَعَ الْمُسْتَوْجِبِیْنَ فَقَدْ ظَلَم
	ترجمہ: (۱)کیا میں  جانور چرانے والے کے آگے موتی پھیلا دوں  کہ بکریاں  چرانے والے کے پاس اس کا خزانہ جمع ہوجائے۔
	(۲)کیونکہ وہ علم کی قدر وقیمت سے بے خبر ہونے کی وجہ سے اندھیرے میں  چلے گئے تو میں  جانوروں  کو اس (علم) کا ہار پہنا کر روشن نہیں  کرسکتا۔
	(۳)اگر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ مجھ پر اپنا لطف وکرم فرمائے اور مجھے علوم وحکمت کے اہل لوگوں  سے ملا دے۔
	(۴)تو میں  علم کو عام کروں  گا اور لوگوں  کی محبت حاصل کروں  گا ورنہ وہ علم کی دولت میرے پاس جمع رہے گی اور چھپی رہے گی۔
	(۵)لہٰذا جس نے جاہلوں  (یعنی نااہلوں ) کو علم دیا اس نے اسے ضائع کردیا اور جس نے حقداروں  (یعنی اہلوں ) سے اسے روکے رکھا اس نے ظلم کیا۔
{7}…اگر طالب علم کوتاہ فہم ہو تو استاذ اسے واضح بات بتائے جسے وہ آسانی سے سمجھ سکے اور یہ نہ بتائے کہ اس کے علاوہ باریک باتیں  بھی ہیں  جو اس سے روک رکھی ہیں ۔ کیونکہ اس طرح واضح باتوں  میں  بھی اس کی رغبت کم ہو گی، اس کا دل تشویش میں  مبتلا ہوجائے گا اور اسے یہ وہم لاحق ہوگا کہ استاذ نے اسے سکھانے میں  بخل سے کام لیا ہے، اس لئے کہ ہر ایک یہی سمجھتا ہے کہ وہ ہر باریک علم کا اہل ہے۔ ہر ایک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے اس بات پر راضی ہے کہ اس نے اسے کامل عقل عطا فرمائی ہے اور جو لوگوں  میں  زیادہ بے وقوف اور زیادہ کمزور عقل والا ہوتا ہے وہ بھی اپنی عقل کو کامل سمجھ کر زیادہ خوش ہوتا ہے۔
	 اس سے معلوم ہوا کہ عوام میں  سے جو شخص شریعت کا پابند ہو اور اس کے دل میں  اسلاف سے منقول عقائد بغیر کسی تشبیہ وتاویل کے راسخ ہوں ، ساتھ ساتھ اس کی سیرت بھی اچھی ہو اور اس کی عقل اس سے زیادہ کی متحمل نہ ہوسکتی ہو تو ایسے شخص کو اس کے اعتقاد کے بارے میں  تشویش میں  نہ ڈالا جائے بلکہ اسے اس کے کام میں  مشغول چھوڑ دیا جائے کیونکہ اگر اسے ظاہری تاویلیں  بتائی جائیں  گی تو وہ عوام کے زمرے سے نکل جائے گا اور اس کے لئے خواص