Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
197 - 1087
	لہٰذا اُستاذ کو چاہئے کہ جو وہ جانتا ہے ہر ایک کو نہ بتائے۔ یہ اس وقت ہے جبکہ طالب ِ علم اسے سمجھتا تو ہو مگر اس سے نفع اٹھانے کا اہل نہ ہو تو پھر ان باتوں  کا کیا ہوگا جنہیں  وہ سمجھتا ہی نہ ہو۔
خنزیر کے گلے میں  موتیوں  کا ہار:
	حضرت سیِّدُنا عیسیٰ رُوْحُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ارشاد فرمایا: ’’موتیوں  کے ہار خنزیروں  کے گلے میں  نہ ڈالو کیونکہ علم موتی سے بہتر ہے اور جوعلم کوناپسند کرے وہ خنزیروں  سے بدتر ہے۔‘‘  (۱)
	 اسی لئے کسی نے کہا: ’’ہر شخص کو اس کی عقل کے معیار پر ناپو اور اس کی سمجھ کے میزان میں  تولو تاکہ تم اس سے محفوظ رہو اور وہ تم سے نفع حاصل کرسکے ورنہ معیار کے مختلف ہونے کی وجہ سے وہ انکار کردے گا۔‘‘  (۲)
	ایک عالم سے کسی نے کوئی بات پوچھی تو انہوں  نے جواب نہ دیا۔ سائل نے کہا: کیا آپ نے رَسُوْلُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ فرمان نہیں  سنا کہ ’’جس نے علم نافع کو چھپایا وہ بروزِقیامت اس حال میں  آئے گا کہ اسے آگ کی لگام ڈالی گئی ہوگی۔‘‘ (۳) عالم صاحب نے کہا: ’’لگام چھوڑو اور جاؤ! اگر میرے پاس کوئی سمجھدار آئے اور میں  اس سے علم کو چھپاؤں  تو مجھے لگام ڈالی جائے گی۔‘‘ 
	ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَلَا تُؤْتُوا السُّفَہَآءَ اَمْوَالَکُمُ (پ۴، النسآء:۵)	ترجمۂ کنزالایمان: اور بے عقلوں  کو ان کے مال نہ دو۔
	مذکورہ آیت مبارَکہ میں  اس بات پر تنبیہ ہے کہ جو علم کو نقصان پہنچائے اس سے علم کو بچانا زیادہ بہتر ہے۔ نااہل کو علم سکھانے کا ظلم ، علم کو اس کے اہل سے روکنے کے ظلم سے کم نہیں ۔
	 شاعر کہتا ہے:
اَ اَ نْثُرُ دُرًّا بَیْنَ سَارِحَۃِ النِّعَمِ		فَاَصْبَحَ مَخْزُوْنًا بِرَاعِیَۃِ الْغَنَم
لِاَنَّہُمْ اَمْسُوْا بِجَھْلٍ لِقَدْرِہٖ		فَلَا اَنَا اُضَحِّیْ اَنْ اُطَوِّقَہُ الْبَھْم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون، باب ذکرالفرق بین   علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۶۷۔ 
2…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۶۷۔ 
3…المعجم الاوسط، من اسمہ عبدالصمد، الحدیث:۴۸۱۵، ج۳، ص۳۵۰۔