کرنا چاہئے بلکہ کسی علم کے ذمہ دار استاذ کو چاہئے کہ وہ طالبِ علم پر دوسرے علم سیکھنے کے راستے کھولے اور اگر اس کے پاس کئی علوم کی ذمہ داری ہے تو اس بات کا لحاظ کرے کہ طالب علمبِالتَّدْرِیْج (آہستہ آہستہ)ایک درجے سے دوسرے درجے کی طرف بڑھتا چلا جائے۔
{6}…استاذ طالب علم کو وہی باتیں بتائے جنہیں وہ سمجھ سکے، جو بات اس کی سمجھ وعقل سے بالاتر ہو وہ نہ بتائے ورنہ اسے علم کے مشغلے سے نفرت ہوجائے گی یا وہ پریشان ہوجائے گا۔ اس سلسلے میں استاذ، معلِّمِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اقتدا وپیروی کرے۔
لوگوں کی عقلوں کے مطابق کلام کرو:
آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ہم گروہِ انبیاء کو حکم ہے کہ لوگوں کو ان کے مراتب پر رکھیں اور ان سے ان کی عقلوں کے مطابق کلام کریں ۔‘‘ (۱)
پس استاذ بھی طالب علم کے سامنے کوئی حقیقت اس وقت ظاہر کرے جب جانتا ہو کہ وہ اسے سمجھ لے گا۔ آقائے دوعالم، نورِمجسم، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’کوئی شخص لوگوں سے ایسی بات کرتا ہے جو ان کی عقلوں میں نہیں آتی تو وہ ان میں سے بعض کے لئے فتنے کا باعث ہوتی ہے۔‘‘ (۲)
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’یہاں بہت سے علوم ہیں اگر کوئی انہیں سمجھنے والا ہو۔‘‘ (۳)
نیز آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سچ فرمایاکہ ’’قُلُوْبُ الْاَبْرَارِ قُـبُوْرُ الْاَسْرَار یعنی نیکوکاروں کے دل بھیدوں کے دفینے ہوتے ہیں ۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…کتاب الضعفاء للعقیلی، یحیی بن مالک بن انس:۲۰۵۷، ج۴، ص۱۵۳۴۔ صحیح مسلم، المقدمۃ، ص۵۔
سنن ابی داود، کتاب الادب، باب فی تنزیل الناس منازلھم، الحدیث:۴۸۴۲، ج۴، ص۳۴۳۔
2…صحیح مسلم، المقدمۃ، باب النھی عن الحدیث بکل ماسمع، الحدیث:۵، ص۹۔
کتاب الضعفاء للعقیلی، الرقم:۱۲۰۲، عثمان بن داود، ج۳، ص۹۳۷۔
3…قوت القلوب،الفصل الحادی والثلاثون:کتاب العلم وتفضیلہ، ذکربیان تفضیل علوم الصمت…الخ، ج۱، ص۲۳۲۔