لئے تجارت گاہ بن گئے کوئی دنیادار ہمارے پاس آتا ہے یہاں تک کہ جب وہ علم سیکھ لیتا ہے تو قاضی، گورنر یا منشی بنا دیا جاتا ہے۔‘‘(۱)
{4}…استاذ کی یہ ذمہ داری فن تعلیم کی باریکیوں میں سے ہے اور وہ یہ ہے کہ جس قدر ممکن ہو اشاروں کنایوں میں شاگرد کو برے اخلاق سے منع کرے، صراحتاً نہ روکے، پیار ومحبت سے منع کرے، جھڑک کر ملامت کرتے ہوئے نہ روکے۔ کیونکہ واضح لفظوں میں کسی کو ملامت کرنے سے ہیبت کا پردہ چاک ہوجاتا اور مخالفت کی جرأت پیدا ہوتی ہے اور وہ منع کردہ بات پر اصرار کرنے کا حریص بن جاتا ہے۔ ہرمعلم کے رہبر ورہنما حضور نبی ٔ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اگر لوگوں کو مینگنی توڑنے سے روکا جائے تو وہ اسے توڑیں گے اور کہیں گے کہ ہمیں اس سے منع کیا گیا ضرور اس میں کوئی بات ہے۔‘‘ (۲)
حضرت سیِّدُنا آدم صَفِیُّ اللّٰہ اور حضرت سیِّدَتناحوا عَلَـیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ اور جس سے انہیں روکا گیا تھا تمہیں اس پر خبردار کرتا ہے۔ میں نے تم سے اس واقعہ کا تذکرہ کہانی کی غرض سے نہیں کیا بلکہ اس لئے کہ تم اس کے ذریعے عبرت حاصل کرتے ہوئے آگاہ ہوجاؤ اور اشاروں کنایوں میں سمجھانے سے عمدہ نفوس اور ذہین وفطین اَذہان اس کے معانی کے استنباط کی طرف مائل ہوتے ہیں اور مختلف معانی نکالنے کی خوشی ان کے علم میں راغب ہونے کا ذریعہ بنتی ہے تاکہ معلوم ہو کہ یہ ان باتوں سے ہے جو اس کی سمجھ سے پوشیدہ نہیں ۔
اساتذہ کی بری عادات:
{5}…کسی علم کے ذمہ دار استاذ کو چاہئے کہ وہ طالب ِ علم کے دل میں اس کے علاوہ دیگر علوم کی برائی نہ ڈالے جیساکہ لغت کے استاذ کی عادت ہوتی ہے کہ وہ علم فقہ کی برائی کرتا ہے اور فقہ پڑھانے والا علم حدیث اور علمِ تفسیر کو برا کہتا ہے کہ یہ تو محض نقلی اور سماعی باتیں ہیں اور یہ بوڑھی عورتوں کا کام ہے، اس میں عقل کو کوئی دخل نہیں ۔ علم کلام کا استاذ فقہ سے نفرت دلاتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ فروعی مسائل ہیں ، عورتوں کے حیض کی باتیں ہیں اس کو علم کلام سے کیا نسبت؟ علم کلام میں تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی صفات کا بیان ہوتا ہے۔ یہ اساتذہ کی بری عادات ہیں ، انہیں ان سے اجتناب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون: کتاب العلم وتفضیلہ، ذکرفضل علم المعرفۃ، ج۱، ص۲۳۱۔
2…عیون الاخبار للدنیوری،کتاب الطبائع والاخلاق المذمومۃ، ج۲، ص۴۔