Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
194 - 1087
سے زیادہ ہوتا ہے۔ پھر اگر اُستاذ کو طالب ِ علم کی باطنی حالت معلوم ہوجائے کہ وہ دنیا کے لئے علم حاصل کررہا ہے تو اس علم کو دیکھے جسے وہ حاصل کررہا ہے اگر وہ فقہی اختلافات، علم کلام کے جھگڑوں  یا مقدمات میں  فیصلوں  اور فتووں  کا علم ہو تو اسے ان علوم کے حاصل کرنے سے روک دے کیونکہ یہ علوم، علومِ آخرت میں  سے نہیں  اور نہ ہی ان علوم میں  سے ہیں  جن کے بارے میں  کہا گیا ہے کہ ’’ ہم نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے علاوہ کے لئے علم سیکھنا چاہا مگر اس نے رضائے الٰہی کے علاوہ کسی اور مقصد کے لئے حاصل ہونے سے انکار کر دیا‘‘بلکہ یہ تو علم تفسیر، علم حدیث اور علم آخرت ہے جس میں  اسلاف مشغول ہوتے تھے نیز یہ نفس کے اخلاق اور ان کو اپنانے کے طریقے کی معرفت کا علم ہے۔
	لہٰذا اگر طالب علم دنیوی مقصد کے لئے علم حاصل کرے تو استاذ کو چاہئے کہ اسے چھوڑ دے کیونکہ اس سے وعظ اور لوگوں  کی پیروی کی خواہش جنم لیتی ہے۔ البتہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ تحصیل علم کے دوران یا آخر میں  وہ خبردار ہوجاتا ہے کیونکہ اس میں  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا خوف پیدا کرنے، دنیا کی حقارت بتانے اور آخرت کی عظمت بیان کرنے والے علوم بھی ہیں  اس لئے ممکن ہے کہ وہ آخرکار راہِ راست پر آجائے اور دوسروں  کو جو وعظ کرتا ہے اس سے خود بھی نصیحت حاصل کرے۔ لوگوں  میں  مقبولیت اور مقام ومنزلت کی خواہش اس دانے کی طرح ہے جسے جال کے اردگرد پھینکا جاتا ہے تاکہ اس کے ذریعے پرندے کا شکار کیا جائے۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے بھی بندوں  کے ساتھ ایسا ہی معاملہ فرمایا کہ شہوت کو پیدا فرمایا تاکہ اس کے ذریعے انسانوں  کی نسل باقی رہے اور حبِ جاہ کی تخلیق فرمائی تاکہ علوم کی زندگی کا سبب بنے اور یہ بات ان علوم میں  متوقع ہے۔ البتہ محض اختلافی مسائل، علم کلام کے جھگڑے اور نادر فروعی مسائل کو جاننے میں  مشغول رہنے اور دیگر علوم کی طرف توجہ نہ دینے سے دل سخت ہوتا، بندہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے غافل ہوجاتا، گمراہی میں  بڑھ جاتا اور مقام ومرتبے کا طالب بن جاتا ہے مگر وہ کہ جسے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّاپنی رحمت سے بچا لے یا وہ جو اس کے ساتھ دوسرے دینی علوم کو ملا لے۔ اس پر تجربے اور مشاہدے جیسی کوئی دلیل نہیں  پس تم دیکھو اور عبرت حاصل کرو اور نگاہِ بصیرت سے بندوں  اور شہروں  میں  اس کی تحقیق معلوم کرو اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہی سے مدد مانگی جاتی ہے۔
ہمیں  لوگوں  نے تجارت گاہ بنا لیا:
	حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کو غمگین دیکھ کر کسی نے وجہ پوچھی تو فرمایا: ’’ہم دنیاداروں  کے