مال ودولت خادم جبکہ علم مخدوم ہے:
مال اور جو کچھ دنیا میں ہے وہ سب بدن کے خادم ہیں اور بدن نفس کی سواری ہے جبکہ مخدوم علم ہے کہ اسی کی بدولت نفس کو فضیلت حاصل ہوتی ہے تو جس نے علم کے ذریعے مال طلب کیا وہ اس شخص کی طرح ہے جو اپنے جوتے کے تلوے کو چہرے سے صاف کرتا ہے تو اس نے مخدوم (چہرے) کو خادم اور خادم (جوتے) کو مخدوم بنا دیا اور یہ کامل درجے کی تبدیلی ہے۔ لہٰذا ایسا شخص قیامت کے دن ان مجرموں (یعنی کفار ومشرکین) کے ساتھ کھڑا ہوگا جو اپنے ربّ کے پاس (اپنے افعال وکردار سے نادم وشرمسار ہوکر) سر نیچے کئے ہوں گے۔
بہرحال فضیلت واحسان استاذ کے لئے ہے۔ پس تم دیکھو کہ دین کا معاملہ کس طرح ان لوگوں کے پاس چلا گیا جنہیں علم فقہ، علم کلام یا ان کے علاوہ دوسرے علوم کی تدریس حاصل ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے ان کا مقصود قربِ الٰہی کاحصول ہے حالانکہ وہ جاگیریں حاصل کرنے کے لئے بادشاہوں کی خدمت میں مال اور عزت خرچ کرکے طرح طرح کی ذلتیں اٹھاتے ہیں اگر وہ یہ چھوڑ دیں تو انہیں نظرانداز کردیا جائے اور کوئی بھی ان کے پا س نہ جائے۔ پھر استاذ شاگرد سے توقع رکھتا ہے کہ وہ ہر مصیبت میں اس کے کام آئے، اس کے دوست کی مدد کرے اور دشمن سے عداوت رکھے، اس کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے تیار رہے اور اس کے مقاصد میں اس کے تابع رہے۔ اگر شاگرد اس میں کوتاہی کرے تو استاذ اس کے خلاف ہوجاتا اور اس کا دشمن بن جاتا ہے، تو ایسا عالم کتنا کمینہ ہے جو اپنے لئے اس مقام کو پسند کرتا ہے پھر اس پر خوش ہوتا ہے اور یہ کہتے ہوئے اسے حیا نہیں آتی کہ تدریس سے میرا مقصد اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا قرب حاصل کرنے کے لئے علم کو پھیلانا اور اس کے دین کی مدد کرنا ہے۔ پس تم ان نشانیوں کو دیکھ لو تاکہ طرح طرح کی دھوکے بازیوں پر تمہاری نظر رہے۔
{3}…استاذطالب ِ علم کو نصیحت کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑے، یوں کہ کسی مرتبے کے استحقاق سے قبل اسے حاصل کرنے کی خواہش سے منع کرے اور ظاہری علوم سے فراغت سے پہلے پوشیدہ علوم میں مشغول ہونے سے روکے۔ پھر اسے تنبیہ کرے کہ علوم حاصل کرنے کا مقصد اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا قرب ہے حکومت، فخر اور جھگڑے کرنا نہیں اور جس قدر ممکن ہو پہلے ہی اس کے دل میں اس چیز کی خرابی کا تصور پختہ کردے کیونکہ بدعمل عالم کا فساد اس کی اصلاح