اس راستے کی منازل ہیں ۔ جب عام شہروں کی طرف جانے والے مسافروں کے درمیان نرمی ایک دوسرے سے محبت ودوستی کا ذریعہ ہے تو پھر فردوسِ اعلیٰ کی طرف سفر اور اس کے راستے میں کیسی نرمی ہونی چاہئے، سعادتِ آخرت تنگ نہیں اسی لئے اس کے طلبگاروں میں جھگڑا نہیں ہوتا اور دنیا کی کامیابیوں میں وسعت نہیں جس کی وجہ سے دنیادار ہجوم کی تنگی سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔ جو لوگ علوم کے ذریعے حکومت کے طالب ہوتے ہیں وہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے اس ارشاد کے مصداق نہیں بن سکتے:
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوۡنَ اِخْوَۃٌ (پ۲۶، الحجرٰت:۱۰) ترجمۂ کنزالایمان: مسلمان مسلمان بھائی ہیں ۔
بلکہ وہ اس فرمان کے مصداق ہوں گے:
اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَئِذٍۭ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیۡنَ ﴿ؕ٪۶۷﴾ (پ۲۵، الزخرف:۶۷)
ترجمۂ کنزالایمان:گہرے دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر پرہیزگار۔
اُستاذ کا مقصود صرف رضائے الٰہی ہو:
{2}…اُستاذ حضور نبی ٔرحمت، شفیع امت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیروی کرے اور علم پر اجرت طلب نہ کرے نہ اس سے کسی صلے یا تعریف وشکریہ کا قصد کرے بلکہ خالصتاً اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا وخوشنودی اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لئے علم سکھائے، شاگردوں پر اپنا کوئی احسان نہ سمجھے اگرچہ ان پر اس کا احسان ضرور ہے بلکہ ان کی فضیلت واحسان تصور کرے کہ انہوں نے اپنے دلوں کو تیار کیا تاکہ ان میں علوم کے بیج بو کرانہیں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے قریب کیا جائے جیسے کوئی شخص تمہیں اپنی زمین اُدھار دے تاکہ تم اس میں اپنے لئے کھیتی باڑی کرو تو تمہارا نفع مالک ِ زمین سے زیادہ ہو گا۔ تو شاگرد پر کیسے احسان قرار دیا جاسکتا ہے جبکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں تمہارا ثواب اس سے زیادہ ہے۔ اگر طالب علم نہ ہوتا تو تم اس ثواب کو نہ پاسکتے تھے۔ لہٰذا صرف خدا عَزَّوَجَلَّ سے اپنا اجر طلب کرو۔ جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:
وَ یٰقَوْمِ لَاۤ اَسئَلُکُمْ عَلَیۡہِ مَالًا ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَی اللہِ (پ۱۲، ہود:۲۹)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اے قوم! میں تم سے کچھ اس پر مال نہیں مانگتا میرا اجر تو اللّٰہ ہی پر ہے۔