چراغ کی بتی کی مثل ہے جو خود جل کر اَوروں کو روشنی مہیا کرتی ہے۔ جیسا کہ (بے عمل عالم کے بارے میں ) کہا گیا ہے:
مَا ھُوَ اِلَّا ذُبَالَۃٌ وَقَدَتْ تُضِیْءُ لِلنَّاسِ وَھِیَ تَحْتَرِقُ
ترجمہ: وہ تو محض ایک بتی ہے جو لوگوں کو روشنی دیتی اور خود جلتی ہے۔
جب وہ علم سکھانے میں مشغول ہوتا ہے تو بہت بڑی ذمہ داری اپنے سر لیتا ہے۔ اس لئے اسے چاہئے کہ اس کے آداب اور ذمہ داریوں کا لحاظ رکھے۔
اُستاذ کے آداب
{1}…استاذشاگردوں پر شفقت کرے اور انہیں اپنے بیٹوں جیسا سمجھے۔ حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لولاکصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’میں تمہارے لئے ایسا ہوں جیسے والد اپنی اولاد کے لئے ہوتا ہے۔‘‘ (۱)
استاذ کا مقصود یہ ہو کہ وہ شاگردوں کو آخرت کے عذاب سے بچائے گا۔ یہ مقصد والدین کے اپنی اولاد کو دنیا کی آگ سے بچانے سے زیادہ اہم ہے۔ اسی وجہ سے استاذ کا حق ماں باپ کے حق سے زیادہ ہے۔ کیونکہ والد اس کے موجودہ وجود اور فانی زندگی کا ذریعہ ہوتا ہے جبکہ استاذ باقی رہنے والی زندگی کا سبب ہوتا ہے۔ اگر استاذ نہ ہو تو باپ کے ذریعے حاصل ہونے والی چیز اسے دائمی ہلاکت کی طرف لے جائے۔ جو اُستاذ آخرت کی دائمی زندگی کے لئے مفید ہے، اس سے وہ اُستاذ مراد ہے جو علومِ آخرت سکھاتا ہے یا وہ مرادہے جو علوم دنیا آخرت کی نیت سے سکھاتا ہے نہ کہ دنیاوی مقصد سے کیونکہ جہاں تک دنیا کی نیت سے علم سکھانے کا معاملہ ہے تو اس میں خود بھی ہلاک ہونا ہے اور دوسروں کو بھی ہلاکت میں مبتلا کرنا ہے۔ ہم اس سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ مانگتے ہیں ۔ جس طرح ایک باپ کی اولاد کا فرض بنتا ہے کہ باہم ایک دوسرے سے محبت کریں اور تمام مقاصد میں ایک دوسرے سے تعاون کریں ایسے ہی ایک استاذ کے شاگردوں کا حق بنتا ہے کہ آپس میں پیار ومحبت قائم رکھیں اور یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے جبکہ ان کا مقصد آخرت ہو، اگر ان کا مقصد دنیا کا حصول ہوگا تو انہیں آپس میں بغض وحسد کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔ کیونکہ علما اور آخرت کے طلبگار دنیا کے راستے سے گزرتے ہوئے بارگاہِ الٰہی کی طرف سفر پر گامزن ہیں اور دنیا کے سال اور مہینے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…سنن ابن ماجہ، کتاب الطھارۃ وسننھا، باب الاستنجاء بالحجارۃ…الخ، الحدیث:۳۱۳، ج۱، ص۱۹۹۔