Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
190 - 1087
دوسری فصل:			راہنما استاذ کے فرائض
	یادرکھو! جس طرح مال حاصل کرنے اور جمع کرنے کے اعتبارسے انسان کی چارحالتیں ہیں اسی طرح علم کے اعتبار سے بھی انسان کی چارحالتیں ہیں ۔ چنانچہ،
مال کے اعتبار سے انسان کی حالتیں :
	 مال کے اعتبارسے انسان کی چار حالتیں ہیں : (۱)… کمانے کی حالت: اس حالت میں وہ مُکْتَسِب ہوتا ہے۔  (۲)…کمایا ہوا مال جمع کرنے کی حالت: اس حالت میں وہ مانگنے سے بے نیاز ہوجاتا ہے۔ (۳)… خود پر خرچ کرنے کی حالت: اس میں وہ مُنْتَفِع (فائدہ اٹھانے والا)کہلاتا ہے۔ (۴)… اپنا مال دوسروں پر خرچ کرنے کی حالت: ایسی صورت میں وہ سخی اور فضیلت والا شمار ہوتا ہے اور یہ سب سے افضل حالت ہے۔
علم کے اعتبار سے انسان کی حالتیں :
 	جس طرح مال جمع کیا جاتا ہے اسی طرح علم بھی حاصل کیا جاتا ہے۔ لہٰذاعلم کے اعتبار سے بھی انسان کی چار حالتیں ہیں : (۱)… طلب ِعلم اور حصولِ علم کی حالت۔ (۲)…دوسروں سے بے پرواہ ہونے کی حالت: یوں کہ علم حاصل کرلینے کے بعد اسے دوسروں سے پوچھنے کی ضرورت نہیں رہتی۔(۳)…غوروفکر کی حالت:یوں کہ حاصل کئے ہوئے علم میں غور وفکر کرنا اور اس سے فائدہ اٹھانا۔ (۴)…دوسروں تک علم پہنچانے کی حالت: یہ تمام حالتوں سے افضل ہے۔
علم پر عمل کرنے اور نہ کرنے والے کی مثال:
	لہٰذاجس نے علم حاصل کیا، اس پر عمل کیا اور دوسروں تک پہنچایا تو وہ شخص آسمانوں میں عظیم شمار کیا جاتا ہے۔ بیشک وہ آفتاب کی مانند ہے جو خود بھی روشن ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی روشنی پہنچاتا ہے اور کستوری کی طرح ہے جو خود معطر ہوتی اور دوسروں کو بھی معطر کرتی ہے اور وہ شخص جو علم سیکھتا ہے مگر اس پر عمل نہیں کرتا وہ اس رجسٹر کی مثل ہے جو دوسروں کو فائدہ دیتا ہے مگر خود علم سے خالی ہوتا ہے۔ اس سان (یعنی دھاردار آلے) کی مانند ہے جو دوسرے اوزاروں کو تو تیز کرتا ہے مگر خود نہیں کاٹتا۔ اس سوئی کی طرح ہے جو دوسروں کے لئے لباس تیار کرتی ہے مگر خود برہنہ رہتی ہے اور