Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
189 - 1087
ہوجاتے ہیں ۔ یہ ہلاکت کا ظاہری سبب ہے جس طرح باطنی اخلاط کے اختلاف کی وجہ سے وہ ہلاک ہوتے ہیں ۔ طب کے ذریعے ایک دوسرے کی مخالف ان باطنی اخلاط میں اعتدال پیدا کیا جاتا ہے جبکہ حکمت عملی اور عدل وانصاف کے ذریعے خارجی جھگڑوں میں اعتدال کی فضا قائم کی جاتی ہے۔ لہٰذا اندرونی اخلاط میں اعتدال کا طریقہ جاننا علم طب اور معاملات وافعال میں لوگوں کو راہِ اعتدال پر رکھنے کا علم علم فقہ کہلاتا ہے۔ یہ دونوں علوم بدن کی حفاظت کرتے ہیں جو سواری ہے۔
	پس جو علم فقہ اور علم طب کے حصول ہی میں کوشاں رہتا ہے، مجاہدہ کرکے اپنے نفس کی اصلاح نہیں کرتا وہ اس شخص کی طرح ہے جو اونٹنی خریدتا ہے، اس کے لئے گھاس خریدتا ہے اور مشکیزہ خرید کر تیار کرتا ہے لیکن حج کے راستے پر نہیں چلتا اور فقہی جھگڑوں میں جاری ہونے والے دقیق کلمات کے سیکھنے میں زندگی بسر کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جو زندگی بھر ان اسباب کی تیاری میں مصروف رہتا ہے جن کے ذریعے سفرحج میں لے جانے والے مشکیزے کو سینے کے لئے دھاگا مضبوط کیا جاتاہے۔
	 ان فقہائے کرام کو ان لوگوں سے جو اصلاحِ قلب کے اس راستے کے راہی ہیں جس کی منزل علم مکاشفہ ہے وہ نسبت ہے جو مشکیزہ درست کرنے والوں کو حج کے راستے پر چلنے والوں یا اس کے ارکان کی ادائیگی کرنے والوں سے ہے۔ تو پہلے اس بات پر غور کرو اور اس شخص کی طرف سے مفت نصیحت قبول کرو جو اس کام میں اکثر وقت گزار چکا اور سخت محنت کے بعد اس تک پہنچا ہے اور اس نے عام و خاص لوگوں میں امتیاز کے لئے بڑی جرأت سے کام لیا اور ان کی تقلید سے گریز کرتے ہوئے اپنی خواہش کو کچل دیا۔ مُتَعَلِّم(طالب علم) کے آداب کے سلسلے میں اتنی ہی بات کافی ہے۔

{…تُوْبُوْا اِلَی اللّٰہ		اَسْتَغْفِرُاللّٰہ…}
{…صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب		صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد…}