بعد ہوتا ہے۔ طریقہ علاج اور اسے اختیار کرنے کی کیفیت کا علم بدن کی سلامتی کے علم اور اسبابِ تندرستی کی تیاری کے بعد حاصل ہوتا ہے اور بدن کی سلامتی اکھٹے رہنے اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے سے حاصل ہوتی ہے اور باہمی تعاون کے ذریعے اشیائے خورد ونوش، کپڑے اور رہائش کے انتظامات ہوتے ہیں اور اس کام کا تعلق بادشاہ کے ساتھ ہے اور عدل وحکمت کے ساتھ لوگوں کو منضبط رکھنے کا قانون فقیہ سے متعلق ہے اور رہے اسبابِ صحت تو وہ طبیب کی ذمہ داری ہے اور جس نے کہا کہ علم دو ہیں :علم الابدان اور علم الادیان اور اس سے فقہ کی طرف اشارہ کیا تواس نے اس سے مروجہ ظاہری علوم مراد لئے باطنی نادر علوم مراد نہیں لئے۔
ایک سوال اور اس کا جواب:
اگر تم یہ کہو کہ علم طب اور علم فقہ کو زادِراہ اور کجاوہ کی تیاری کے ساتھ کیوں تشبیہ دی تو اس کا جواب یہ ہے کہ معرفت الٰہی کے لئے دل کوشش کرتا ہے تا کہ اس کا قرب حاصل ہو بقیہ بدن اس کی کوشش نہیں کرتا اور دل سے میری مراد محسوس ہونے والا گوشت نہیں بلکہ وہ تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے رازوں میں سے ایک راز ہے جس کا اِدراک کرنے سے حس قاصر ہے اور اس کے لطائف میں سے ایک لطیفہ ہے جسے کبھی روح سے اور کبھی نفس مطمئنہ سے تعبیر کیا جاتا ہے جبکہ شریعت میں اسے دل سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
حاصل کلام:
ہر وہ علم جس کا مقصد بدن کی مصلحت ہو وہ سواری کے مصالح میں سے ہے اور ظاہر ہے کہ طب کا بھی یہی معاملہ ہے کیونکہ صحت بدن کی حفاظت کے لئے اس کی ضرورت پڑتی ہے اور اگر بالفرض ایک ہی انسان ہوتا تو اسے بھی اس کی ضرور حاجت ہوتی جبکہ فقہ کا معاملہ اس سے جدا ہے کہ اگر بالفرض صرف ایک انسان ہوتا تو کبھی اسے فقہ کی ضرورت نہ بھی ہوتی۔لیکن انسان کی پیدائش اس انداز پر کی گئی ہے کہ وہ اکیلا زندگی نہیں گزار سکتا کیونکہ کھیتی باڑی کرنے، روٹی پکانے، آٹا گوندھنے، لباس اور رہائش حاصل کرنے اور اس کے تمام آلات تیار کرنے کے لئے تنہا انسان ناکافی ہے وہ مل کر رہنے اور تعاون حاصل کرنے پر مجبور ہے اور جب لوگ اکٹھے رہتے اور ان کی خواہشات جوش مارتی ہیں تو وہ اپنی خواہشات واسباب کو ایک دوسرے سے کھینچتے ہیں ، لڑتے جھگڑتے ہیں اور اس وجہ سے ہلاک