مقام ہے اور وہ علم طب، علم فقہ اور دنیا میں مصالح بدن سے متعلقہ علوم ہیں ۔ دوسری قسم جنگلوں میں چلنے اور گھاٹیاں طے کرنے کی طرح ہے اور وہ یہ ہے کہ باطن کو بری صفات سے پاک وصاف کرنا اور ان اونچی گھاٹیوں پر چڑھنا جن پر چڑھنے سے توفیق یافتہ لوگوں کے علاوہ تمام اوّلین وآخرین عاجز ہیں ۔ اس راستے پر چلنا اور اس کا علم حاصل کرنا ایسے ہے جیسے راستے کی سمتوں اور اس کی منزلوں کا علم حاصل کرنا اور جس طرح منزلوں اور جنگلی راستوں کا علم اس وقت تک نفع مند نہیں جب تک ان پر چلا نہ جائے اسی طرح اچھے اخلاق کا علم انہیں اپنائے بغیرمفید نہیں لیکن عمدہ اخلاق سے خود کو آراستہ کرنا ان کا علم حاصل کئے بغیر ممکن نہیں ۔ تیسری قسم نفس حج اور اس کے ارکان کے قائم مقام ہے اور یہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی ذات وصفات، اس کے فرشتوں اور اس کے افعال نیز ان تمام باتوں کا علم ہے جو ہم نے علم مکاشفہ کے ضمن میں بیان کیں ۔ یہ علم ہلاکت سے نجات اور سعادت کے حصول میں کامیابی کا ذریعہ ہے اور نجات ہر سالک کو حاصل ہوتی ہے جبکہ اس کا مقصد حق ہو اور سعادت کے حصول میں کامیابی صرف اہل معرفت کو نصیب ہوتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے مقرب بندے ہیں اس کے حضور روح وریحان اور جنتی نعمتوں سے سرفراز ہوتے ہیں اور وہ لوگ جو درجۂ کمال تک نہیں پہنچ پاتے انہیں عذاب سے نجات اور سلامتی ہی حاصل ہوتی ہے۔ جیسا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمان عالیشان ہے: فَاَمَّاۤ اِنۡ کَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِیۡنَ ﴿ۙ۸۸﴾ فَرَوْحٌ وَّ رَیۡحَانٌ ۬ۙ وَّ جَنَّتُ نَعِیۡمٍ ﴿۸۹﴾ وَ اَمَّاۤ اِنۡ کَانَ مِنۡ اَصْحٰبِ الْیَمِیۡنِ ﴿ۙ۹۰﴾ فَسَلٰمٌ لَّکَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیۡنِ ﴿۹۱﴾ؕ (پ۲۷، الواقعۃ:۸۸تا۹۱)
ترجمۂ کنزالایمان: پھر وہ مرنے والا اگر مقربوں سے ہے، تو راحت ہے اور پھول اور چین کے باغ، اور اگر دہنی طرف والوں سے ہو، تو اے محبوب تم پر سلام دہنی طرف والوں سے۔
اور ہر وہ شخص جو مقصد کی طرف توجہ نہ کرے، اسے پانے کی کوشش نہ کرے یا اس کی طرف متوجہ ہو لیکن حکم الٰہی کی بجا آوری اور عبادت کی نیت سے نہیں بلکہ کسی دنیوی غرض سے تو وہ بائیں طرف والوں اور گمراہوں میں سے ہے۔ کھولتے پانی سے اس کی مہمانی ہوگی اور اسے جہنم کی آگ میں دھنسا دیا جائے گا۔
پس سعادت علم مکاشفہ کے بعد حاصل ہوتی ہے اور علم مکاشفہ علم معاملہ کے بعد حاصل ہوتا ہے اور علم معاملہ راہِ آخرت پر چلنے کا نام ہے۔ صفات کی گھاٹیوں کو پار کرنا اور برے اخلاق کے خاتمہ کی راہ پر چلنا صفات کا علم سیکھنے کے