مشاہدے کے قائم مقام ہے وہ بھی اس پر گواہ ہے تو حقیقت میں اہم وہ ہے جس کا نفع ہمیشہ باقی رہے۔
منزل ، سواری اور مقصد حقیقی:
دنیا گویا ایک منزل ہے (جہاں کچھ دیر قیام کیا جاتا ہے) اور یہ بدن ایک سواری ہے (جس پر سوار ہو کر مراد تک پہنچا جاتا ہے) اور اس سے صادر ہونے والے اعمال مقصد کی طرف دوڑ ہے اور مقصدحقیقی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی ملاقات ہے اسی میں تمام نعمتیں ہیں اگرچہ دنیا میں بہت تھوڑے لوگ اس علم کی قدر جانتے ہیں ۔
مراتب ِ علم مثال کے آئینے میں :
لقاء ِالٰہی اور بلاحجاب دیدارِالٰہی کی سعادت کی طرف نسبت کے اعتبار سے علم کے تین درجے ہیں ۔ دیدار سے مراد وہ ہے جس کے طالب انبیائے کرامعَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں اور وہ اسے سمجھتے ہیں ۔ وہ دیدار مراد نہیں جس کی طرف عوام اور متکلمین کا ذہن جاتا ہے۔ ان تین درجات کو اس مثال سے سمجھا جاسکتا ہے کہ کسی غلام کو کہا جائے کہ اگر تم مکمل حج کرلو تو تمہیں غلامی سے آزادی کا پروانہ بھی ملے گا اور بادشاہی بھی عطا کی جائے گی اور اگر حج کے راستے پر چلنا شروع کردیا اور وہاں تک پہنچنے کی کوشش بھی کی مگر کوئی سخت رکاوٹ آڑے آ گئی اور حج نہ کرسکا تو صرف غلامی کی شقاوت سے رہائی ملے گی، بادشاہی کی سعادت نصیب نہ ہوگی تو اس پر تین قسم کے کام لازم ہوں گے۔ پہلا یہ کہ اسباب تیار کرے مثلاً اونٹنی خریدے، مشک سیئے، زادِراہ اور کجاوہ تیار کرے۔ دوسرا یہ کہ وطن کو چھوڑ کر کعبہ شریف کی طرف منزل بہ منزل چلے۔ تیسرا یہ کہ افعالِ حج میں مشغول ہوکر ایک ایک رکن ادا کرے پھر ارکانِ حج کی ادائیگی سے فراغت کے بعد اور حالت احرام اور طواف وداع سے نکلنے کے بعد وہ (غلامی سے رہائی اور) بادشاہی کا مستحق ہوجائے گا۔ اس کے لئے ان مقامات میں سے ہر مقام پر منزلیں ہیں ۔ اسباب کی تیاری کے شروع سے لے کر اس کے آخر تک۔ جنگلوں کا سفر شروع کرنے سے ختم کرنے تک۔ ارکانِ حج کے شروع سے آخر تک اور ارکانِ حج شروع کرنے والا شخص سعادت کے جتنا قریب ہے اتنا قریب وہ نہیں جو ابھی زادِراہ اور کجاوہ کی تیاری میں مشغول ہے اور نہ ہی وہ جس نے سفر شروع کر دیا بلکہ ارکانِ حج شروع کرنے والا ان دونوں سے زیادہ سعادت کے قریب ہے۔
اسی طرح علوم کی بھی تین اقسام ہیں : ایک قسم زادِراہ جمع کرنے، کجاوہ تیار کرنے اور اونٹنی خریدنے کے قائم