سرحدوں کی حفاظت کرنے اور راہِ خدا میں جہاد کرنے والے غازیوں کی طرح ہیں ۔ ان میں سے کچھ لڑتے ہیں تو کچھ حملوں کو روکتے ہیں ۔ بعض مجاہدین کو پانی پلاتے ہیں تو بعض ان کی سواریوں کی حفاظت کرتے اور ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں ۔ان میں سے کوئی بھی اجر و ثواب سے محروم نہ ہوگا بشرطیکہ اس کی نیت اعلائے کلمہ حق کی ہونہ کہ غنیمتیں اکٹھی کرنے کی۔ علما کے بھی مختلف درجات ہیں ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
یَرْفَعِ اللہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمْ ۙ وَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ (پ۲۸،المجادلۃ:۱۱)
ترجمۂ کنزالایمان: اللّٰہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیادرجے بلند فرمائے گا۔
ایک جگہ ارشاد فرمایا:
ہُمْ دَرَجٰتٌ عِنۡدَ اللہِ ؕ (پ۴، اٰل عمرٰن:۱۶۳) ترجمۂ کنزالایمان: وہ اللّٰہ کے یہاں درجہ درجہ ہیں ۔
فضیلت ایک اضافی چیز ہے۔ ہمارا صرافوں کو بادشاہوں کی نسبت کم تر سمجھنا یہ ثابت نہیں کرتا کہ وہ بھنگیوں کی بنسبت بھی حقیر ہیں اس لئے تم یہ گمان نہ کرو کہ جو سب سے بلند مرتبہ سے کم درجہ ہے اس کا کوئی مرتبہ نہیں بلکہ سب سے بلند مرتبہ انبیائے کرامعَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ہے پھر اولیائے عظام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کا پھر پختہ علم والے علما کا پھر صالحین کا ان کے درجات کے اعتبار سے ہے۔ مختصر یہ کہ،
فَمَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ ؕ﴿۷﴾ وَ مَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ ٪﴿۸﴾ (پ۳۰، الزلزال:۷،۸)
ترجمۂ کنزالایمان: جو ایک ذرّہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گااور جو ایک ذرّہ بھر برائی کرے اسے دیکھے گا۔
اور جو شخص علم سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی معرفت حاصل کرنے کا قصد کرے گا وہ علم خواہ کوئی سا بھی ہو اسے ضرور نفع ملے گا اور بلندی نصیب ہوگی۔
{10}…مقصد کی جانب علم کی نسبت کو جاننے کی کوشش کرنا:طالب ِ علم علم کی طرف مقصد کی جونسبت ہے اسے جانے تاکہ قریب اور اعلیٰ کو بعید اور ادنیٰ پر اوراہم ( یعنی مقصود بالذات) کو غیرمقصود پر ترجیح دے سکے ۔ یہاں مُہِمّ(اہم)سے مراد وہ ہے ’’جو تجھے فکرمند کرے‘‘ اور تجھے صرف دنیا وآخرت کا معاملہ ہی فکرمند کرتا ہے اور جب دنیا کی لذّتوں اور آخرت کی نعمتوں کو اکٹھا کرنا ممکن نہیں جیسا کہ قرآنِ حکیم نے اس بات کو بیان کیا اور نورِ بصیرت جو