Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
184 - 1087
کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے ارشاد فرمایا: ’’حق کو افراد سے نہ پہچانو بلکہ فی نفسہٖ حق کی پہچان حاصل کرو افراد کو خود ہی پہچان جاؤ گے۔‘‘  (۱)
{8}…افضل علم تک پہنچانے والے سبب کی معرفت حاصل کرنا:طالب ِ علم اس سبب کو پہچانے جس کے ذریعے وہ تمام علوم سے افضل علم کو حاصل کرسکے اور کسی علم کا شرف دوچیزوں سے ہوتا ہے: (۱)…انجام کی فضیلت (۲)…دلیل کی مضبوطی وقوت سے۔ اس کی مثال علم دین اور علم طب ہے کہ ان میں سے ایک کا نتیجہ حیاتِ سرمدی اور دوسرے کا حیاتِ فانی ہے۔ لہٰذا علم دین افضل ہوا (کہ اس کانتیجہ حیاتِ سرمدی ہے)۔ ایک مثال علم حساب اور علم نجوم کی ہے کہ علم حساب دلائل کی مضبوطی اور قوت کی وجہ سے افضل ہے، اگر حساب کی نسبت طب کی طرف کی جائے تو نتیجے کے اعتبار سے طب افضل ہے جبکہ دلائل کے اعتبار سے حساب افضل ہے لیکن نتیجے کا اعتبار کرنا زیادہ بہتر ہے اس لئے طب افضل ہے اگرچہ اس کا اکثر حصہ ظنی ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ تمام علوم میں افضل علم اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی ذات، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کا علم اور ان علوم تک پہنچانے والے راستے کا علم ہے۔ اس لئے تمہیں اسی میں دلچسپی لینی چاہئے اور اسی کا حریص ہونا چاہئے۔
{9}…باطن کی صفائی:طالب ِ علم کا مقصود یہ ہو کہ وہ پہلے اپنے باطن کی صفائی کرے گا اور اسے فضیلت سے آراستہ کرے گا اور آخر میں اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ کا قرب حاصل کرے گا اور ملائکہ ومقربین کی بارگاہ کے قرب تک رسائی پائے گا۔ یہ نیت نہ کرے کہ علم سے حکومت، مال ودولت، مقام ومرتبہ، بیوقوفوں سے جھگڑا اور ہم عصروں پر فخر کرے گا۔ اگراچھی نیت سے علم حاصل کیاتو اپنے مقصود سے قریب تر یعنی علم آخرت کو ضرور طلب کرے گا لیکن اس کے باوجود وہ باقی علوم کو بنظر حقارت نہ دیکھے یعنی علم فتاویٰ، علم نحو وعلم لغت جو قرآن وحدیث سے متعلق ہو اور اس کے علاوہ دیگر فرض کفایہ علوم جنہیں ہم نے مقدمات اور متممات میں بیان کیا ہے۔ 
علم آخرت کے مقابلے میں دیگر علوم کی حیثیت:
	علم آخرت کی تعریف میں ہمارے مبالغہ کرنے سے تم یہ ہرگز نہ سمجھنا کہ باقی علوم مذموم ہیں ۔ ان علوم کے حامل 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…صید الخاطر لابن الجوزی، فصل ولاتنس نصیبک من الدنیا، ص۲۱۔