پرحکمت تحریر:
منقول ہے کہ پہلے کے داناؤں میں سے دو کی تصویر ان کی عبادت گاہ میں دیکھی گئی، ان میں سے ایک کے ہاتھ میں موجود ورق پرلکھاتھا کہ اگر تم ہر چیز کو اچھے طریقے سے سیکھ لو تو یہ نہ سمجھو کہ تم نے کسی چیز کو اچھے طریقے سے جان لیا ہے جب تک کہ تم اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی معرفت حاصل نہ کر لو اور یہ یقین نہ کر لو کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ مُسَبِّبُ الْاَسْبَاب اور تمام چیزوں کا موجد ہے اور دوسرے دانا کے ہاتھ میں موجود ورق پر لکھا تھا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی معرفت حاصل کرنے سے پہلے میں پانی پینے کے باوجود پیاسا رہتا تھا اور معرفت کے حصول کے بعدمیں بغیر پئے سیراب رہتا ہوں ۔
{7}…ایک فن کی تکمیل کے بعددوسرے فن کی طرف متوجہ ہونا:طالب ِ علم اس وقت تک دوسرے فن میں مشغول نہ ہو جب تک پہلے کو مکمل نہ کرلے کیونکہ علوم ترتیب ضروری پر مرتب ہیں اور ان میں سے بعض بعض کا ذریعہ ہیں اور توفیق یافتہ وہ ہے جو اس ترتیب اور درجہ بندی کی رعایت کرے۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کاارشاد ہے:
اَلَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الْکِتٰبَ یَتْلُوۡنَہٗ حَقَّ تِلَاوَتِہٖؕ (پ۱،البقرۃ:۱۲۱)
ترجمۂ کنزالایمان: جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ جیسی چاہئے اس کی تلاوت کرتے ہیں ۔
یعنی وہ ایک فن سے اس وقت تک آگے نہیں بڑھتے جب تک علم وعمل کے لحاظ سے اسے پختہ نہ کرلیں ۔ طالب ِ علم کو چاہئے کہ وہ جس علم کے حصول کا ارادہ کرے اس سے اس کا مقصد اس سے اعلیٰ علم کی طرف ترقی کرنا ہو اور کسی علم کے بارے میں اس علم کے جاننے والوں میں اختلاف واقع ہونے یا اس میں کسی ایک یا چند ایک سے غلطی ہوجانے یا لوگوں کے اپنے علم کے مطابق عمل نہ کرنے کی وجہ سے اس علم کے فساد کا حکم نہ لگائے۔ تم دیکھتے ہو کہ ایک جماعت نے عقلیات وفقہیات میں غور وفکر کرنا چھوڑ دیا اور وجہ یہ بتاتے ہیں کہ اگر ان کی کوئی اصل ہوتی تو ان کے جاننے والے اسے ضرور پاتے۔ اس اعتراض کا جواب معیار العلم کے بیان میں گزر چکا ہے اور تم دیکھتے ہو کہ ایک گروہ طبیب کی غلطی کو دیکھ کر طب کے باطل ہونے کا اعتقاد رکھتا ہے اور ایک گروہ کسی نجومی کی اتفاقیہ درست بات کو دیکھ کر علمِ نجوم کو صحیح گردانتا ہے اور کوئی گروہ کسی دوسرے نجومی کی اتفاقی غلطی کی وجہ سے اسے باطل بتاتا ہے حالانکہ یہ سب غلط ہے بلکہ چاہئے تو یہ کہ فی نفسہٖ شے کو جانا جائے کیونکہ ہر شخص ہر علم کا ماہر نہیں ہوتا اسی لئے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ