جس طرح جہاد میں اسلامی سرحدوں کے محافظ ہوتے ہیں اور ہر ایک کے لئے ایک مرتبہ ہے اور اسی مرتبے کے اعتبار سے آخرت میں اس کے لئے اجر ہے جبکہ اس سے مقصود رضائے الٰہی ہو۔
{6}… ترتیب علوم کا لحاظ رکھنا اور سب سے پہلے اہم کو شروع کرنا:طالب ِ علم دفعتاً علم کے فنون میں سے کسی فن میں مشغول نہ ہو بلکہ ترتیب کا لحاظ رکھے اور سب سے پہلے اہم کو شروع کرے کیونکہ عام طور پر زندگی تمام علوم سیکھنے کا موقع نہیں دیتی۔ لہٰذا احتیاط یہی ہے کہ ہر فن میں سے عمدہ کو حاصل کرلے اور اس میں سے تھوڑے پر اکتفا کرے اور اس سے حاصل ہونے والی تمام قوت اس علم کی تکمیل میں صرف کرے جو سب سے افضل ہے اور وہ علم آخرت یعنی اس کی دونوں اقسام: علم معاملہ اور علم مکاشفہ ہے۔ علم معاملہ کی انتہا مکاشفہ ہے اور علم مکاشفہ کی انتہا معرفت ِ الٰہی ہے۔ اس سے میری مراد وہ اعتقاد نہیں جسے عوام باپ داداؤں سے سنتے آئے ہوں یا زبانی یاد کرلیا ہو اور نہ ہی تحریر کلام کا طریقہ اور مجادلہ مراد ہے جس کے ذریعے وہ اپنے کلام کو مخالف کی دھوکا بازیوں سے بچاتا ہے جیسا کہ علم کلام والے کی یہ غرض ہوتی ہے بلکہ مکاشفہ تو یقین کی ایک قسم ہے جو اس نور کا ثمرہ ہے جسے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس بندے کے دل میں ڈالتا ہے جو مجاہدے کے ذریعے باطن کو خباثتوں سے پاک کرلیتا ہے یہاں تک کہ وہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ایمان کے مرتبے کو پہنچ جاتا ہے۔ وہ ایمان کہ اگر ساری کائنات کے ایمان سے تولا جائے تو بھی وزنی رہے۔ جیسا کہ تاجدارِرسالت، ماہ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس بات کی گواہی دی ہے۔(۱)
اور امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہتمام صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے اس راز کی وجہ سے افضل ہیں جو ان کے سینے میں راسخ تھا۔ لہٰذا تم اس راز کی معرفت کے حریص بن جاؤ جو فقہا اور متکلمین کی ہمت سے خارج ہے اور اسے تلاش کرنے کی تمہاری حرص ہی اس کی طرف تمہاری رہنمائی کرے گی۔ بہرحال تمام علوم سے افضل اور تمام علوم کی غرض وغایت اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی معرفت ہے اور معرفت ِ الٰہی ایسا سمندر ہے جس کی گہرائی تک نہیں پہنچا جاسکتا اس میں بندوں کے درجات میں سب سے افضل درجہ انبیائے کرامعَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ہے پھر اولیائے عظام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کاپھر ان سے متصل لوگوں کا۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی، عبداللّٰہ بن عبدالعزیز:۱۰۱۲، ج۵، ص۳۳۵۔