Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
181 - 1087
 صفت سے بدل جاتا ہے اور قلیل نجاست کوزے پر غالب آ جاتی ہے اور اس میں موجود پانی کو اپنی صفت پر لے آتی ہے اسی وجہ سے حضور نبی ٔاکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے وہ باتیں جائز تھیں  جو دوسروں کے لئے جائز نہ تھیں یہاں تک کہ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو (بیک وقت) نواَزواج(بیویاں ) رکھنے کی اجازت تھی۔(۱) کیونکہ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ایسی قوت حاصل تھی جس سے عورتوں میں عدل وانصاف فرماتے اگرچہ وہ بہت ساری ہوں جبکہ کوئی دوسراکچھ عدل پر قادر نہیں بلکہ عورتوں کے درمیان کا نقصان اسے پہنچ جاتا ہے یہاں تک کہ وہ عورتوں کی رضا جوئی میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔لہٰذا فرشتوں کو لوہاروں پر قیاس کرنے والا کیسے فلاح پاسکتا ہے۔
{5}…عمدہ علم کے ہرفن اور ہرقسم کو جاننے کی کوشش کرنا: طالب ِ علم اچھے علوم کا کوئی فن اور اس کی کوئی قسم نہ چھوڑے، اس میں اس قدر غور وفکر کرے کہ اس کی غرض و غایت معلوم ہوجائے پھر اگر زندگی وفا کرے تو اس میں مہارت حاصل کرے ورنہ اس سے زیادہ اہم میں مشغول ہوکر اسے پورا کرے اور بقیہ علوم میں سے تھوڑا تھوڑا حاصل کرلے کیونکہ علوم ایک دوسرے کے مددگار اور ایک دوسرے سے مربوط(جڑے ہوئے) ہیں ۔ فی الحال علم سے علیحدگی اختیار کرنے والا جہالت کے باعث اس علم سے عداوت رکھتا ہے، کیونکہ لوگ جس سے جاہل ہوتے ہیں اس کے دشمن ہوتے ہیں ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتاہے:
وَ اِذْ لَمْ یَہۡتَدُوۡا بِہٖ فَسَیَقُوۡلُوۡنَ ہٰذَاۤ اِفْکٌ قَدِیۡمٌ ﴿۱۱﴾پ۲۶،الاحقاف:۱۱)
ترجمۂ کنزالایمان: اور جب انہیں اس کی ہدایت نہ ہوئی تو اب کہیں گے کہ یہ پرانا بہتان ہے۔
	شاعر کہتا ہے:
وَمَنْ یَکُ ذَا فَمٍ مَرِیْضٍ		یَجِدُ مُرًّا بِہِ الْمَاءَ الزُّلَالَا
	ترجمہ: کڑوے منہ والا مریض میٹھے پانی کو بھی کڑوا سمجھتا ہے۔
	علوم کے مختلف درجات ہیں یا تو وہ بندے کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف لے جاتے ہیں یا اس میں کسی نہ کسی قسم کی اعانت کرتے ہیں اور مقصود سے قریبی ودوری میں ہر علم کا ایک مقرر مقام ہے۔ ان علوم کو قائم کرنے والے ان کے محافظ ہیں 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب کثرۃ النسآء، الحدیث:۵۰۶۸، ج۳، ص۴۲۳۔