Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
180 - 1087
{4}…ابتداء ً لوگوں کے اختلافات پر دھیان نہ دینا:طالب ِ علم ابتدا میں لوگوں کے اختلافات پر دھیان نہ دے خواہ وہ دنیوی علوم ہوں یا اُخروی، کیونکہ یہ بات اس کی عقل کو پریشان ، ذہن کو حیران ، اس کی رائے کو سست اور مسائل کو جاننے سمجھنے سے مایوس کردے گی بلکہ اسے چاہئے کہ پہلے ایک اچھے اور منفرد طریقے کا یقین کرے جو اس کے استاذ کو بھی پسند ہو پھر اس کے بعد دوسرے مذاہب اور شبہات کی طرف توجہ دے۔ اگر استاذ ایک رائے کو اختیار کرنے میں پختہ نہ ہو بلکہ اس کی عادت ہو کہ وہ محض مذاہب اور ان کی ابحاث کو نقل کرتا ہو تو اس سے بچے کیونکہ اس کی گمراہی رہنمائی سے زیادہ ہوگی کہ اندھا اندھوں کی قیادت ورہنمائی نہیں کرسکتا۔ جس شخص کی یہ حالت ہو وہ خود جہالت وحیرت کے جنگل میں بھٹکتا رہتا ہے۔ ابتدائی طالب ِ علم کو شبہات سے روکنا ایسا ہے جیسے نومسلم کو کفار کے ساتھ میل جول سے منع کرنا اور قوی کو اختلافات میں نظر کرنے کی ترغیب دلانا ایسا ہے جیسے قوی کو کفار سے میل جول کی رغبت دلانا۔ اسی وجہ سے بزدل کو لشکر ِکفار پر حملہ کرنے سے منع کیا جاتا ہے اور بہادر کو اس کی رغبت دلائی جاتی ہے۔ بعض ضعیف لوگوں نے اس باریک نکتہ سے غافل ہونے کی وجہ سے یہ گمان کیا کہ طاقت ور لوگوں سے جو کمزوریاں منقول ہیں ان میں ان کی پیروی جائز ہے اور یہ نہ جانا کہ ان کے معاملات کمزور لوگوں کے معاملات سے جداگانہ ہیں ۔ اسی کے بارے میں بعض بزرگوں نے فرمایا: ’’جس نے مجھے ابتدا میں دیکھا وہ صدیق ہو گیا اور جس نے مجھے انتہا میں دیکھا وہ زندیق ہوگیا۔‘‘ کیونکہ انتہا میں اعمال باطن کی طرف لوٹ جاتے ہیں اور ظاہری اعضاء فرائض کے علاوہ اعمال سے رک جاتے ہیں تو دیکھنے والے سمجھتے ہیں کہ یہ سستی اور بے کاری ہے حالانکہ ایسا نہیں بلکہ یہ تو عین حضوری میں دل کی نگرانی اور ہمیشہ ذکر کو اختیار کرنا ہے جو سب اعمال سے افضل ہے۔
سمندر میں جو خاصیت ہے وہ کوزے میں نہیں :
	 طاقت ور کے ظاہر حال کو دیکھ کر اسے لغزش سمجھنے والا کمزور شخص اس شخص کی طرح عذر پیش کرتا ہے جو پانی کے کوزے میں معمولی سی نجاست ڈالتا ہے اور کہتا ہے کہ اس نجاست سے کئی گنا زیادہ سمندر میں ڈالی جاتی ہے اور سمندر کوزے سے بہت بڑا ہے پس جو سمندر کے لئے جائز ہے وہ کوزے کے لئے بدرجہ اَولیٰ جائز ہوگا وہ بے چارہ یہ نہیں جانتا کہ سمندر اپنی قوت وطاقت سے نجاست کو پانی میں تبدیل کردیتا ہے تو نجاست کا عین پانی کے غلبے کی وجہ سے اس کی