Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
179 - 1087
	پھر حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام صبر نہ کرسکے اور بار بار انہیں ٹوکتے رہے یہاں تک کہ یہ بات ان کے درمیان جدائی کا سبب بن گئی۔ مختصر یہ کہ جو شاگرد استاذ کے سامنے اپنی رائے کو ترجیح دیتا ہے اس پر محرومی اور خسارے کا فیصلہ کردیا جاتا ہے۔
ایک سوال اور اس کا جواب:
	اگر تم کہو کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کا ارشاد ہے:
فَسْـَٔلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکْرِ اِنۡ کُنۡتُمْ لَا تَعْلَمُوۡنَ ﴿ۙ۴۳﴾ (پ۱۴،النحل:۴۳)
ترجمۂ کنزالایمان: تو اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہیں ۔
	یہاں تو سوال کرنے کا حکم ہے!؟یاد رکھو کہ بات ایسی ہی ہے لیکن اس چیز کے بارے میں سوال کرے جس کے متعلق سوال کرنے کی استاذ اجازت دے کیونکہ جو چیز تمہاری سمجھ میں نہ آ سکے اس کے بارے میں پوچھنا مذموم ہے۔ اسی لئے حضرت سیِّدُنا خضر نے حضرت سیِّدُنا موسیٰکلیم اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو پوچھنے سے منع کردیا تھا یعنی اس کے وقت سے پہلے مت پوچھو۔ استاذ زیادہ جانتا ہے کہ تم کس کے اہل ہو اور اس بات کو ظاہر کرنے کا کون سا وقت ہے؟ اور بلند درجات میں سے ہر درجہ میں جس چیز کو بیان کرنے کا وقت نہیں آیا اس کے بارے میں پوچھنے کا وقت بھی نہیں آیا۔
عالم کے حقوق :
	امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا: ’’عالم کے حقوق میں سے ہے کہ تم اس سے زیادہ سوال نہ کرو، جواب میں اس پر سختی نہ کرو، وہ تھک جائے تو اصرار نہ کرو، جب وہ اٹھنے لگے تو اس کے کپڑے نہ پکڑو، اس کے بھید نہ کھولو، اس کے سامنے کسی کی غیبت نہ کرو، اس کے عیب نہ ڈھونڈو، اگر لغزش کرے تو اس کا عذر قبول کرو، جب تک وہ دین کی حفاظت کرے تب تک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے تم پر اس کی تعظیم وتوقیر واجب ہے، اس کے آگے نہ بیٹھو اور جب اسے کوئی حاجت ہو تو سب سے پہلے اس کی خدمت کرو۔‘‘(۱)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…جامع بیان العلم وفضلہ، باب جامع فی آداب العالم والمتعلم، الحدیث:۵۸۵، ص۱۷۵۔