Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
178 - 1087
ترجمہ: علم کو متکبر شخص سے عداوت ہوتی ہے جیسے سیلاب کو بلند جگہ سے عداوت ہوتی ہے۔
	پس علم تواضع اور توجہ کے ساتھ سنے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔
	 ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِمَنۡ کَانَ لَہٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَی السَّمْعَ وَ ہُوَ شَہِیۡدٌ ﴿۳۷﴾ (پ۲۶، ق:۳۷)
ترجمۂ کنزالایمان:بے شک اس میں نصیحت ہے اس کے لیے جو دل رکھتا ہو یا کان لگائے اور متوجہ ہو۔
	دل رکھنے والے سے مرادیہ ہے کہ وہ علم کو سمجھ سکتا ہو پھر سمجھنے کی قدرت اسے فائدہ نہ دے گی جب تک کہ وہ توجہ کے ساتھ کان لگاکر نہ سنے گاتاکہ جو کچھ اسے بتایا جائے اچھی توجہ، انکساری، شکریہ، خوشی اور احسان ماننے کے ساتھ اسے قبول کرلے۔ شاگرد کو استاذ کے سامنے نرم زمین کی طرح ہونا چاہئے جو موسلا دھار بارش کو جذب کرکے اسے مکمل طور پر قبول کرلیتی ہے اور جب استاذ اسے علم سیکھنے کا کوئی طریقہ بتائے تو اسے چاہئے کہ اپنی رائے کو چھوڑ کر استاذ کے بتائے ہوئے طریقے کو اختیار کرے کیونکہ اس کے رہنما کی خطا اس کے لئے اپنی درستی سے زیادہ مفید ہے۔ اس لئے کہ تجربہ ایسی باریکیوں پر مطلع کرتا ہے جن کو سننے سے تعجب ہوتا ہے حالانکہ ان کا نفع بہت زیادہ ہوتا ہے۔ کتنے گرم مزاج مریض ایسے ہیں کہ طبیب ان کا علاج گرم دواؤں کے ساتھ کرتا ہے تاکہ ان کی حرارت اس حد تک زیادہ ہوجائے کہ وہ علاج کا صدمہ برداشت کرسکے، اس سے اس شخص کو تعجب ہوتا ہے جو فن طب سے نابلد ہوتا ہے۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا خضر اور حضرت سیِّدُنا موسیٰ کَلِیْمُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعہ میں اس پر تنبیہ فرمائی ہے، جب حضرت سیِّدُنا خضرعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کہا:
قَالَ اِنَّکَ لَنۡ تَسْتَطِیۡعَ مَعِیَ صَبْرًا ﴿۶۷﴾وَکَیۡفَ تَصْبِرُ عَلٰی مَا لَمْ تُحِطْ بِہٖ خُبْرًا﴿۶۸﴾(پ۱۵،الکہف:۶۷،۶۸)
ترجمۂ کنزالایمان:آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے، اور اس بات پر کیونکر صبر کریں گے جسے آپ کا علم محیط نہیں ۔
	پھر انہوں نے حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر چُپ چاپ مان لینے کی پابندی لگا دی اور کہا:
 قَالَ فَاِنِ اتَّبَعْتَنِیۡ فَلَا تَسْـَٔلْنِیۡ عَنۡ شَیۡءٍ حَتّٰۤی اُحْدِثَ لَکَ مِنْہُ ذِکْرًا﴿۷۰﴾٪(پ۱۵،الکہف:۷۰)
ترجمۂ کنزالایمان: تو اگر آپ میرے ساتھ رہتے ہیں تو مجھ سے کسی بات کو نہ پوچھنا جب تک میں خود اس کا ذکر نہ کروں ۔