مانتا ہے اور اسے چاہئے کہ ا پنے استاذ سے عاجزی وانکساری کے ساتھ پیش آئے اور اس کی خدمت کرکے ثواب و فضیلت کا طالب ہو۔
علما و اکابرین اور اہل بیت کا مقام ومرتبہ:
حضرت سیِّدُنا امام شعبی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا زید بن ثابت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ایک شخص کی نمازِ جنازہ سے فارغ ہوئے اور ان کا خچرقریب لایا گیا تاکہ اس پر سوار ہوں ، اتنے میں حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا تشریف لائے اور خچر کی رکاب تھام لی۔ حضرت سیِّدُنا زید بن ثابت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کہا: ’’ اے رَسُوْلُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چچا زاد بھائی ! آپ زحمت نہ فرمائیے!‘‘ حضرت سیِّدُناابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا: ’’ ہمیں علما واکابرین کے ساتھ ایسا ہی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ‘‘ پھر حضرت سیِّدُنا زید بن ثابت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے آپ کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور کہا: ’’ہمیں اہلِ بیت رسول کے ساتھ اسی طرح پیش آنے کا حکم دیا گیا ہے۔‘‘(۱)
حضور نبی ٔکریم، رء ُ وفٌ رَّحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’خوشامد مسلمان کی صفات میں سے نہیں مگر طلب ِ علم میں ۔‘‘(۲)
طالب علم کو استاذ کے سامنے تکبر نہیں کرنا چاہئے اور یہ بھی تکبر ہے کہ وہ مشہور ومعروف علما کے علاوہ سے علم حاصل کرنے کو ناپسند کرے اوریہ عین حماقت ہے کیونکہ علم نجات اور سعادت کا ذریعہ ہے اور جو شخص چیر پھاڑدینے والے درندے سے بھاگنا چاہتا ہے وہ اس میں فرق نہیں کرے گا کہ بھاگنے کی راہ کوئی مشہور شخص بتائے یا گمنام اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے بے خبر لوگوں کے لئے آگ کی درندگی کا نقصان تمام درندوں کے نقصان سے زیادہ ہے۔ حکمت مومن کی گمشدہ چیز ہے جہاں پائے غنیمت جانے اور جس نے اس کی طرف رہنمائی کی اس کا احسان مانے وہ جو بھی ہو، اسی لئے کہا گیا ہے:
اَلْعِلْمُ حَرْبٌ لِلْفَتَی الْمُتَعَالِی کَالسَّیْلِ حَرْبٌ لِلْمَکَانِ الْعَالِی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…جامع بیان العلم وفضلہ، باب جامع فی آداب العالم والمتعلم، الحدیث:۵۷۶، ص۱۷۴۔ عیون الاخبارللدنیوری، کتاب السؤدد، التواضع، ج۱، ص۳۸۰تا۳۸۱۔
2…جامع بیان العلم وفضلہ، باب جامع فی آداب العالم والمتعلم، الحدیث:۵۸۷، ص۱۷۸۔