Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
176 - 1087
 انکار کردیا اور ہم سے کنارہ کشی اختیار کرلی پس ہم پر علم کی حقیقت آشکار نہ ہوئی ہمیں صرف اس کے الفاظ حاصل ہوئے۔
ایک سوال اور اس کا جواب:
	اگر تم کہو کہ میں نے محققین علما وفقہا کی ایک جماعت دیکھی جنہوں نے فروع واصول میں نمایاں مقام حاصل کیا اور وہ اکابرین میں شمار کئے جاتے ہیں حالانکہ وہ برے اخلاق کے حامل ہیں ،اتنے علم سے بھی وہ پاک نہ ہوسکے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب تم مراتب علم اور علمِ آخرت کو پہچان جاؤگے تو تم پر یہ بات واضح ہوجائے گی کہ جس چیز میں وہ مشغول ہیں اس کا علم ہونے کی حیثیت سے فائدہ کم ہے بلکہ اس کا فائدہ تورضائے الٰہی کے لئے عمل ہونے کے اعتبار سے ہے جبکہ اس سے مقصود قربِ الٰہی کا حصول ہو۔ اس کی طرف پہلے اشارہ گزر چکا ہے اور اِنْ شَآءَاللہُ عَزَّ وَجَلَّعنقریب اس کی مزید وضاحت آئے گی۔
{2}…دنیوی مشغولیات سے حتی المقدور بچنے کی کوشش کرنا:طالب ِ علم اپنی دنیوی مشغولیات کو کم کرے، اپنے گھروالوں اور وطن سے دور رہے کیونکہ یہ تعلقات اسے مشغول رکھتے اور طلب ِ علم سے پھیردیتے ہیں ۔
	ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
مَا جَعَلَ اللہُ لِرَجُلٍ مِّنۡ قَلْبَیۡنِ فِیۡ جَوْفِہٖ ۚ (پ۲۱، الاحزاب:۴)
ترجمۂ کنزالایمان: اللّٰہ نے کسی آدمی کے اندر دو دل نہ رکھے۔
	اور جب خیالات منتشر ہوجائیں تو حقائق جاننے میں کمی آجاتی ہے اسی لئے کہا گیا ہے کہ علم تمہیں اپنا بعض اس وقت تک نہ دے گا جب تک تم اسے اپنا سب کچھ نہ دے دوگے اور جب تم اپنا سب کچھ اسے دے دوگے تو تمہیں اس کا بعض مل جائے گا لیکن اس میں بھی خطرہ ہوگا (کہ وہ مفید ہے یا نقصان دہ) اور مختلف کاموں میں بٹی ہوئی سوچ اس نالے کی طرح ہے جس کا پانی بکھرجائے، پھر اس میں سے کچھ زمین خشک کردے، کچھ ہوا میں مل جائے اور اتنا نہ بچے جو جمع ہوکر کھیت تک پہنچے۔
{3}… علم پر تکبر نہ کرنا:طالب ِ علم، علم پر تکبر نہ کرے، استاذ پر حکم نہ چلائے بلکہ اپنے تمام معاملات کی لگام مکمل طور پر استاذ کے ہاتھ میں دے دے اور اس کی نصیحت کو ایسے قبول کرے جیسے جاہل بیمار، شفیق وماہر طبیب کی نصیحت کو