معنوی طور پر کتا ہے۔ البتہ! صورت میں دل ہے پس نورِ بصیرت معانی کو دیکھتا ہے صورتوں کو نہیں ، دنیا میں صورتیں معانی پر غالب ہیں اور معانی ان میں پوشیدہ ہیں ۔ جبکہ آخرت میں صورتیں معانی کے پیچھے چلیں گی اور معانی غالب ہوں گے۔ اسی وجہ سے ہر شخص کو اس کی معنوی صورت پر اُٹھایا جائے گا۔ لہٰذا لوگوں کی عزتوں کو پاش پاش کرنے والا شکاری کتے کی شکل میں (۱)، لوگوں کے اموال کا حریص ظالم بھیڑیے کی شکل میں ، تکبر کرنے والا چیتے کی صورت میں اور حکومت کا طالب شیر کی شکل میں اٹھایا جائے گا۔ اس مضمون کی احادیث وارد ہیں اور اہلِ بصیرت واہلِ بصارت کے نزدیک عبرت اس پر گواہ ہے۔
ایک سوال اور اس کا جواب:
اگر تم کہو کہ کتنے گھٹیا اخلاق کے طلبہ ایسے ہیں جنہوں نے علوم حاصل کرلئے(تو اس کا جواب یہ ہے کہ ) افسوس! وہ حقیقی علم سے کتنے محروم ہیں جو آخرت میں نفع بخش اور سعادت وخوش بختی کا ذریعہ ہے کیونکہ علم کے آغاز میں سے یہ بات ہے کہ طالب ِ علم پر ظاہر ہوجائے کہ گناہ زہرِ قاتل ہیں اور کیا تم نے کبھی ایسا شخص دیکھا ہے جو یہ جانتے ہوئے زہر کھائے کہ یہ باعث ہلاکت ہے؟ اور جو تم نے رسمی لوگوں سے سنا ہے وہ تو ایک بات ہے جسے وہ ایک بار اپنی زبانوں سے بنا سنوار کر کہتے ہیں اور دوسری بار ان کے دل اس بات کا رد کردیتے ہیں ، اس کا علم سے کوئی تعلق نہیں ۔
حضرت سیِّدُنا ابن مسعودرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’علم کثرتِ روایت کا نام نہیں بلکہ علم تو ایک نور ہے جو دل میں رکھا جاتا ہے۔
بعض علما نے فرمایا: علم خشیت(الٰہی کانام) ہے۔ کیونکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
اِنَّمَا یَخْشَی اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا ؕ(پ۲۲، فاطر:۲۸)
ترجمۂ کنزالایمان: اللّٰہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں ۔
گویا اس میں علم کے نتائج کی طرف اشارہ ہے اسی وجہ سے بعض محققین نے علما کے اس قول ’’ہم نے علم کو غیرِخدا کے لئے حاصل کیا تو علم نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کسی کے لئے حاصل ہونے سے انکار کردیا‘‘ کا مفہوم یہ بیان کیا کہ علم نے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…فیض القدیر، حرف اللام، تحت الحدیث:۷۳۷۱، ج۵، ص۳۸۰۔