Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
174 - 1087
بغض وکینہ، حسد، تکبر، خودپسندی وغیرہ بھونکنے والے کتے ہیں تو فرشتے اس دل میں کیسے داخل ہوں گے جو ان کتوں سے بھرا ہو۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ علم کا نور فرشتوں کے ذریعے ہی دلوں میں داخل فرماتا ہے۔ چنانچہ، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَ مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنۡ یُّکَلِّمَہُ اللہُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنۡ وَّرَآیِٔ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوۡلًا فَیُوۡحِیَ بِاِذْنِہٖ مَا یَشَآءُ ؕ (پ۲۵، الشورٰی:۵۱)
ترجمۂ کنزالایمان: اور کسی آدمی کو نہیں پہنچتا کہ اللّٰہ  اس سے کلام فرمائے مگر وحی کے طور پر یا یوں کہ وہ بشر پردہ عظمت کے ادھر ہویا کوئی فرشتہ بھیجے کہ وہ اس کے حکم سے وحی کرے جو وہ چاہے۔
	اسی طرح دلوں میں بھیجی جانے والی علوم کی رحمت اس پر مقرر فرشتوں کے ذریعے ہی آتی ہے اور وہ فرشتے پاک ہیں ۔ بری صفات سے محفوظ ہیں ۔ اس لئے وہ پاک ہی کو دیکھتے ہیں اور ان کے پاس جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت کے خزانے ہیں وہ ان سے پاک لوگوں کو ہی معمور فرماتے ہیں ۔
ایک شبہ کا ازالہ:
	میں یہ نہیں کہتا کہ لفظ بیت(یعنی گھر) سے مراد دل اور کلب(یعنی کتے) سے مراد غصہ اور دیگر بری صفات ہیں بلکہ میں کہتا ہوں کہ یہ اس بات پر آگاہ کرنا اور ظاہری معنی کو برقرار رکھتے ہوئے ظاہر سے باطنی معنی مراد لینا ہے۔ پس اسی قضیہ سے ہمارے اور فرقہ باطنیہ والوں کے درمیان فرق ہوگیا۔ یہی عبرت حاصل کرنے کاطریقہ اور ائمہ ابرار (نیک ائمہ)  کا مسلک ہے اورعبرت حاصل کرنے کا معنی یہ ہے کہ اس سے نصیحت پکڑو جو کسی دوسرے کے لئے بیان کیا جائے اور اسے اس کے ساتھ خاص نہ سمجھو۔ جیسا کہ عقل مند شخص کسی کو مصیبت میں مبتلا دیکھتا ہے تو وہ اس سے عبرت پکڑتا ہے کہ یہ مصیبت اسے بھی لاحق ہوسکتی ہے کیونکہ دنیا تو جائے انقلاب ہے۔ پس اس کا دوسرے کے حالات سے خود عبرت پکڑنا اور اپنی حالت سے دنیا کی حقیقت پر عبرت پکڑنا اچھا ہے۔ اس لئے تم بھی لوگوں کے بنائے ہوئے گھر سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے بنائے ہوئے گھر یعنی دل کا اندازہ لگاؤ اور وہ کتا جس کی برائی اس کی بری خصلت کی وجہ سے کی جاتی ہے نہ کہ صورت کی وجہ سے ،وہ اس میں موجود ناپاکی اور درندگی ہے اس سے اس روح کا اندازہ لگاؤ جس میں درندگی پائی جاتی ہے۔
شکاری کتا ، ظالم بھیڑیا ،چیتا اور شیر:
	یاد رکھو! جو دل غصے اور دنیا کی حرص سے لبریز ہو، اس پر لڑتا ہو اور لوگوں کی عزتوں کو پامال کرنے کا حریص ہو وہ