Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
172 - 1087
 وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس دین کی مدد ان لوگوں سے بھی لے لیتا ہے جن کادین میں کوئی حصہ نہیں۔‘‘(۱)
	ایک روایت میں ہے کہ ’’بے شک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ فاسق و فاجر شخص سے بھی اس دین کی مدد لے لیتا ہے۔‘‘  (۲)
آگ اور شمع کی مثل:
	پس طالب ِ حکومت خود ہلاک ہورہا ہوتاہے۔ البتہ اس کے سبب کبھی دوسروں کی اصلاح ہوجاتی ہے جبکہ وہ ترکِ دنیا کی طرف بلائے اور یہ اس شخص میں ہوتا ہے جس کا ظاہری حال علمائے سلف کے ظاہر جیسا ہو۔اگروہ دل میں مقام ومرتبہ کی خواہش چھپائے ہوئے ہو تو اس کی مثال اس شمع جیسی ہے جو خود تو جلتی ہے مگر دوسرے اس سے روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ اس کی ہلاکت میں دوسروں کی اصلاح ہے اور اگر وہ طلب ِ دنیا کی طرف بلائے تو اس کی مثال آگ جیسی ہے جو خود بھی جلتی ہے اور دوسروں کو بھی جلاتی ہے۔
علما کی اقسام:
	علما کی تین قسمیں ہیں : (۱)جو خود کوبھی اور دوسروں کو بھی ہلاک کرنے والے ہیں اور یہ وہ ہیں جو علانیہ دنیا کی ترغیب دلاتے اور اس کی طرف متوجہ رہتے ہیں ۔ (۲)جو خود بھی سعادت مند ہوتے ہیں اور دوسروں کی بھی خوش بختی کا ذریعہ بنتے ہیں اور یہ وہ ہیں جو ظاہر وباطن میں لوگوں کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف بلاتے ہیں ۔ (۳)جو خود ہلاک ہوتے ہیں مگر دوسروں کی سعادت مندی کا ذریعہ بنتے ہیں اور یہ وہ ہیں جو آخرت کی طرف بلاتے ہیں ۔یہ بظاہر تو دنیا چھوڑ چکے ہوتے ہیں لیکن دل میں لوگوں میں مقبولیت اور جاہ وحشمت کی تمنا رکھتے ہیں ۔ پس تم غور کرو کہ تم کس قسم میں داخل ہو اور کس کی تیاری میں مگن ہو؟ اور ہرگز یہ نہ سمجھنا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ایسے علم وعمل کو قبول فرما لے گا جو خالصۃً اس کی رضا کے لئے نہیں ۔ عنقریب’’کتاب الریا‘‘ بلکہ تمام مہلکات میں ایسی گفتگو آئے گی جو تمہارے شک و شبہ کو ختم کر دے گی۔
								اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ
٭…٭…٭…٭…٭…٭
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…السنن الکبری للنسائی، کتاب السیر، باب الاستعانۃ بالفجار فی الحرب، الحدیث:۸۸۸۵، ج۵، ص۲۷۹۔ 
2…صحیح البخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب ان اللّٰہ یؤید…الخ، الحدیث:۳۰۶۲، ج۲، ص۳۲۹۔