Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
171 - 1087
لے گا۔یاد رکھو! یہ گھٹیا اخلاق اس میں بھی ضرور پائے جاتے ہیں جو وعظ ونصیحت میں مشغول ہو جبکہ اس کا مقصد لوگوں میں مقبولیت پانا، اپنا مرتبہ قائم کرنا اور مال وعزت حاصل کرنا ہو۔ اس میں بھی ضرور پائے جاتے ہیں جو علمِ مذہب وفتاویٰ میں مشغول ہو جبکہ اس کا مقصد قاضی بننا، اوقاف کا متولی بننا اور اپنے ہم عصروں سے آگے بڑھنا ہو۔
ہمیشہ کی ہلاکت وبربادی یا حیات جاودانی:
	مختصر یہ کہ یہ بری خصلتیں ہر اس شخص میں لازمی پائی جاتی ہیں جو آخرت میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ سے حصولِ ثواب کے علاوہ مقصد کے لئے علم حاصل کرتا ہے، کیونکہ علم عالم کو ایسے نہیں چھوڑتا بلکہ اسے ہمیشہ کی ہلاکت وبربادی کا نشانہ بنا دیتا یا حیاتِ جاوِدانی بخش دیتا ہے اسی لئے سرکارِمدینہ ،راحت ِقلب وسینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’بروزِ قیامت لوگوں میں سب سے سخت عذاب اس عالم کو ہوگا جسے اس کے علم نے نفع نہ دیا ہوگا۔‘‘(۱)
	بے شک یہاں علم نے نقصان دیا نفع نہیں دیا کاش! وہ برابر برابر ہی نجات پا لیتا۔ خبردار! خبردار! علم کا خطرہ بہت بڑا ہے اور اس کا طالب دائمی بادشاہی اور ہمیشہ کی نعمتوں کا طالب ہوتا ہے۔ پس وہ بادشاہ بن کر یا ہلاک ہوکر ہی رہتا ہے۔ وہ دنیوی بادشاہی کے طالب کی طرح ہے کہ اگر وہ مال حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو تو ذلت سے بچنے کی امید بھی نہیں ہوتی بلکہ اس کے لئے سخت رسوا کن حالات ضروری ہوجاتے ہیں ۔
ایک سوال اور اس کاجواب:
	اگر تم کہو کہ مناظرے کی اجازت دینے میں فائدہ ہے کہ اس سے لوگوں کو طلب ِعلم کی ترغیب ملتی ہے، اگر حکومت کی محبت نہ ہو تو علوم مٹ جائیں گے۔؟تو اس کا جواب یہ ہے کہ جو تم نے کہا ایک اعتبار سے سچ ہے، لیکن اس کا فائدہ نہیں کیونکہ اگر بچے کو گیند بلے اور چڑیوں سے کھیلنے کی لالچ نہ دی جائے تو وہ مدرسہ میں دلچسپی نہیں لیتا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کھیل کود کا شوق اچھا ہے۔ اسی طرح اگر حکومت کی محبت نہ ہو تو علوم مٹ جائیں گے۔ لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حکومت کا طالب نجات پائے گا بلکہ وہ ان لوگوں میں سے ہے جن کے بارے میں حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…شعب الایمان للبیھقی، باب فی نشرالعلم، الحدیث:۱۷۷۸، ج۲، ص۲۸۵۔ المجالسۃ وجواہرالعلم للدینوری، الحدیث:۹۱، ج۱، ص۵۷۔