Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
170 - 1087
{10}…ریاکاری اور لوگوں پر نگاہ رکھنا: ریاکاری، لوگوں پر نگاہ رکھنا، ان کے دلوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے اور ان کے چہروں کو اپنی طرف پھیرنے کی کوشش کرنا بھی مناظرے کی برائیوں میں سے ایک برائی ہے۔ ریاکاری ایک لاعلاج بیماری ہے، جو بڑے بڑے گناہوں کی طرف لے جاتی ہے۔ جیسا کہ ’’کتاب الریا‘‘میں آئے گا۔ مناظر کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ظاہر ہو اور لوگ اس کی تعریف کریں ۔
	مذکورہ10برائیاں بڑی بڑی باطنی برائیوں میں سے ہیں اور وہ عادات جو غیرسنجیدہ مناظرین میں پائی جاتی ہیں ان کے علاوہ ہیں جیسے ایسا جھگڑا جس میں مار دھاڑ، تھپڑ رسیدکرنا، چہرے پر مارنا، کپڑے پھاڑنا، داڑھی پکڑنا، والدین کو گالیاں دینا، اساتذہ کو برا بھلا کہنا اور کھلم کھلا تہمت لگانااورالزام تراشی کرنا ہے۔ بلاشبہ ایسے لوگوں کا شمار سمجھدار لوگوں میں نہیں ہوتا۔ ان میں سے جو اکابر اور اہلِ عقل ہوتے ہیں وہ بھی ان 10خصلتوں میں مبتلا ہوتے ہی ہیں ۔ البتہ کچھ لوگ، بعض خصلتوں سے محفوظ رہتے ہیں جبکہ مد ِمقابل مناظر اس سے کم مرتبہ ہو یا زیادہ مرتبے والا ہو یا اس کے شہر اور اسبابِ معیشت سے دور کا ہو اور اگر دونوں ہم پلہ ہوں تو پھر ان خصلتوں سے نہیں بچ سکتے۔ پھر ان 10خصلتوں میں سے ہر ایک خصلت سے مزید 10بے ہودہ حرکات جنم لیتی ہیں ہم ان میں سے ہر ایک کی تفصیل بیان کرکے گفتگو کو طویل نہیں کریں گے، جیسا کہ ناک چڑھانا، غصہ کرنا، دشمنی رکھنا، لالچ کرنا، غلبہ پانے اور فخر کرنے کی قدرت حاصل کرنے کے لئے طلب مال وعزَّت کی محبت، غرور، اِترانا، مالداروں اور بادشاہوں کی تعظیم کرنا، ان کے درباروں میں آنا جانا، ان کے حرام مال حاصل کرنا، گھوڑوں ، سواریوں اور ممنوع کپڑوں سے زینت اختیار کرنا، فخر وغرور میں مبتلا ہوکر لوگوں کو حقیر سمجھنا، فضول کاموں میں غور وخوض کرنا، زیادہ باتیں کرنا، دل سے خوف وخشیت اور نرمی نکل جانا، دل پر غفلت طاری ہوجانا کہ ان میں سے جب کوئی نماز پڑھے تو اسے یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے کون سی نماز پڑھی؟ کہاں سے قرات کی؟ اور کس کی بارگاہ میں مناجات کر رہا ہے؟ مناظرے میں مددگار علوم میں تمام عمر مشغول رہنے کے باوجود وہ اپنے دل میں خشوع محسوس نہیں کرتا اور یہ علوم یعنی عمدہ گفتگو، مُقَفّٰی ومُسَجَّع الفاظ اور نادر ونایاب باتوں کو یاد کرلینا اور ان کے علاوہ بے شمار امور ہیں جو آخرت میں نفع بھی نہیں دیں گے۔ جبکہ مناظرین اپنے درجات کے مطابق ان میں مختلف ہیں ۔ ان کے مختلف درجات ہیں جو ان میں سے دین میں بڑا اور عقل ودانائی میں زیادہ ہو وہ بھی ان خصائل سے نہیں بچ سکتا بہت زیادہ کوشش کرکے اتنا کرلے گا کہ اپنے نفس پر قابو پاکر انہیں چھپا