Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
169 - 1087
{9}…حق سے تکبر کرنا، اسے برا جاننا اور اس میں جھگڑنے کو پسند کرنا:مناظرے سے جنم لینے والی برائیوں میں سے ایک برائی حق سے تکبر کرنا، اسے برا جاننا اور اس میں جھگڑنے کو پسند کرنا بھی ہے۔ یہاں تک کہ مناظر کے لئے یہ بات سب سے زیادہ قابلِ نفرت ہوتی ہے کہ اس کے مخالف کی زبان پر حق ظاہر ہو۔ اگر ظاہر ہوجائے تو اس کا انکار کرنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے اور اسے رد کرنے کے لئے دھوکا، مکر وفریب اور حیلہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ حتی کہ اس میں جھگڑا کرنے کی طبعی عادت بن جاتی ہے۔ پھر وہ جو بھی کلام سنتا ہے اس کی طبیعت اس پر اعتراض کرنے کی طرف راغب ہوتی ہے اور معاملہ یہاں تک پہنچ جاتا ہے کہ قرآنِ حکیم کے دلائل اور شریعت کے الفاظ کے بارے میں بھی اعتراض کی عادت اس کے دل پر غالب آجاتی ہے۔ پھر وہ بعض الفاظ کو بعض کے مقابلے میں لاتا ہے حالانکہ باطل کے مقابلے میں بھی جھگڑا کرنا ممنوع ہے کیونکہ حضور نبی ٔ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حق کے ساتھ باطل کے خلاف جھگڑا ترک کرنے کی ترغیب دلائی ہے۔ چنانچہ،
 	تاجدارِدوعالم، نورِ مجسم، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’جو باطل پر ہو اور جھگڑا چھوڑ دے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کے لئے جنت کے ایک کونے میں گھر بنائے گا اور جو حق پر ہو اور جھگڑا نہ کرے تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کے لئے جنت کے اوپر والے درجے میں گھر بنائے گا۔‘‘ (۱)
 	نیز اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے حق کوجھٹلانے اور ذات الٰہی پر جھوٹ باندھنے والوں کو یکساں قرار دیاہے ۔ چنانچہ، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللہِ کَذِبًا اَوْ کَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَہٗ ؕ (پ۲۱،العنکبوت:۶۸)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللّٰہ پر جھوٹ باندھے یا حق کو جھٹلائے جب وہ اس کے پاس آئے۔
	ایک جگہ ارشاد فرمایا:
فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنۡ کَذَبَ عَلَی اللہِ وَ کَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِذْ جَآءَہٗ ؕ(پ۲۴، الزمر:۳۲)
ترجمۂ کنزالایمان: تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللّٰہ پر جھوٹ باندھے اور حق کو جھٹلائے جب اس کے پاس آئے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…سنن الترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء فی المرائ، الحدیث:۲۰۰۰، ج۳، ص۴۰۰۔ سنن ابی داود، کتاب الادب، باب فی حسن الخلق، الحدیث:۴۸۰۰، ج۴، ص۳۳۲، بتغیرٍ۔