Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
168 - 1087
ان میں ایسی دشمنی ہوتی ہے جیسی سوکنوں میں ہوتی ہے۔ جس طرح ایک سوکن جب دوسری کو دور سے دیکھتی ہے تو گھبرا کر لرز جاتی اور اس کا رنگ پیلا پڑ جاتا ہے اسی طرح تم مناظر کو دیکھو گے کہ جب وہ کسی دوسرے مناظر کو دیکھ لیتا ہے تو اس کا رنگ بدل جاتا اور وہ گھبرا جاتا ہے جیسے اس نے کوئی سرکش جنّ یا شکاری درندہ دیکھ لیا ہو۔ تو کہاں ہے وہ محبت وپیار جو علما کے درمیان باہم ملاقات کے وقت ہوتا ہے اور کہاں ہے وہ جو علما کے بارے میں بھائی  چارہ، ایک دوسرے کی مدد کرنا اور خوشی غمی میں ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہونا منقول ہے۔
مربوط رشتہ :
	حضرت سیِّدُنا امام شافعی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی نے فرمایا: ’’علم اہل فضل وعقل کے درمیان مربوط رشتہ ہے۔‘‘
 لہٰذا جن لوگوں کے درمیان قطعی دشمنی ہے وہ حضرت سیِّدُنا امام شافعی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی کے مذہب کی اقتدا کا دعویٰ کیسے کرتے ہیں ؟ غلبہ وفخر کی خواہش ہوتے ہوئے ان میں محبت کی فضا ہرگز ہرگز قائم نہیں ہوسکتی۔ تمہیں مناظرے کی اتنی برائی کافی ہے کہ منافقین کے اخلاق تمہاری عادات بن جائیں اور تم مؤمنین ومتقین کے اخلاق سے محروم ہوجاؤ۔
{8}…منافقت: اس کی مذمت میں دلائل دینے کی حاجت نہیں ، مناظرین اس پر مجبور ہوتے ہیں ، کیونکہ وہ اپنے مخالفین اور ان کے محبین ومتبعین سے ملتے ہیں تو زبان سے ان کی محبت اور ان کے مقام ومرتبے کے شوق کا اظہار کرنے کے سوا انہیں کوئی چارہ نہیں ہوتا حالانکہ متکلم ومخاطب اور تمام سننے والے جانتے ہیں کہ یہ جھوٹ، منافقت اور فجور ہے کیونکہ وہ زبان سے تو محبت کا اظہار کرتے ہیں لیکن دلوں میں ایک دوسرے سے نفرت رکھتے ہیں ۔ ہم ان سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ مانگتے ہیں ۔ 
	حضرت سیِّدُنا امام حسن بصری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے مروی ہے کہ حضور نبی ٔ پاک، صاحبِ لولاکصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جب لوگ علم سیکھیں اور عمل چھوڑ دیں ، زبانوں سے اظہارِ محبت کریں اور دلوں میں بغض وعداوت رکھیں اور رشتے کاٹیں اس وقت ان پر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی لعنت ہوگی اور وہ انہیں اندھا اور بہرہ کردے گا۔‘‘ (۱)   اس روایت کی صحت اس حالت کے مشاہدے سے ثابت ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…الزھد للامام احمد بن حنبل، فضل ابی ھریرۃ، الحدیث:۸۳۶، ص۱۷۶۔ العقوبات لابن ابی الدنیا، اسباب العقوبات وانواعھا، الحدیث:۱۰، ص۲۴۔