{3}…کینہ: مناظر اس سے بھی محفوظ نہیں رہ سکتا حالانکہ مکی مدنی سرکار، محبوب پروردگارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’مسلمان کینہ پرور نہیں ہوتا۔‘‘(۱)
کینے کی مذمت وبرائی میں جو کچھ مروی ہے وہ کسی پر مخفی نہیں اور تم کسی مناظر کو اس پر قادر نہ دیکھو گے کہ وہ اس شخص سے کینے کو چھپائے جو اس کے مخالف کا کلام سن کر سر ہلاتا ہے اور اس کا کلام سن کر نہ سر ہلاتا ہے اور نہ اچھے طریقے سے سنتا ہے بلکہ جب مناظر اسے دیکھے گا تو کینے کو چھپانے اور دل ہی دل میں اسے بڑھانے پر مجبور ہوجائے گا اور زیادہ سے زیادہ یہ کرسکے گا کہ نفاق کے طور پر کینے کو چھپا لے گا لیکن عام طور پر وہ ظاہر ہوہی جاتا ہے۔
نیز مناظر کینے سے کیونکر بچ سکتا ہے جبکہ تمام سننے والوں کا متفقہ طور پر اس کے کلام کو ترجیح دینا متصور نہیں اور نہ یہ ممکن ہے کہ ہر حالت میں وہ اس کے اعتراضات و جوابات کو اچھا بتائیں بلکہ اس کے مخالف سے اگر کوئی چھوٹی سی بات بھی ایسی صادر ہوگئی جس سے اس کے کلام کی طرف توجہ کم ہوگئی تو زندگی بھر اس کے دل میں مخالف کا کینہ جم جائے گا۔
{4}…غیبت: اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے غیبت کو مردار کھانے سے تشبیہ دی ہے۔ مناظر ہمیشہ مردار کھاتا رہتا ہے کیونکہ وہ مخالف کا کلام نقل کرنے اور اس کی مذمت کرنے سے باز نہیں رہ سکتا۔ وہ زیادہ سے زیادہ یہ احتیاط کرلے گا کہ مخالف کی جو بات نقل کرے گا اس میں سچ بولے گا، جھوٹ سے کام نہیں لے گا۔ البتہ ایسی باتیں ضرور نقل کرے گا جو اس کے کلام کے عیب، عجز اور اس کی فضیلت کی کمی پر دلالت کریں اور یہی غیبت ہے، اگر اس کے بارے میں جھوٹ نقل کرے گا تو بہتان ہوگا۔ اسی طرح مناظر اس شخص کی عزت کے درپے ہونے سے بھی اپنی زبان کو قابو میں نہیں رکھ سکتا جو اس کے کلام سے اعراض کرے اور اس کے مخالف کا کلام توجہ سے سنے حتی کہ وہ ایسے شخص کو جاہل، احمق، ناسمجھ اور بے وقوف بتائے گا۔
{5}…خودپسندی کا شکار ہونا: مناظرے سے جنم لینے والی برائیوں میں سے ایک اپنے نفس کی تعریف کرنا بھی ہے۔ارشادباری تعالیٰ ہے :
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…الزواجر عن اقتراف الکبائر، الباب الاول، الکبیرۃ الثالثۃ، ج۱، ص۱۲۴۔ المعجم الاوسط، الحدیث:۴۶۵۳، ج۳، ص۳۰۱۔