طرف مائل ہوجائیں ۔ حسد ایک جلانے والی آگ ہے پس جو اس میں مبتلا ہوا وہ دنیا میں بھی عذاب میں گرفتار ہوا اور آخرت کا عذاب تو زیادہ سخت اور بڑا ہے۔ اسی لئے حضرت سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا: ’’علم کو جہاں پاؤ لے لو لیکن فقہا کے وہ اقوال قبول نہ کرو جو ایک دوسرے کے خلاف ہوں کیونکہ وہ ایک دوسرے کے ایسے ہی دشمن ہیں جیسے باڑے میں بکرے ایک دوسرے کے دشمن ہوتے ہیں ۔‘‘(۱)
{2}…تکبر اور خود کو لوگوں سے بلند سمجھنا: سردارِ مکۂ مکرمہ ،سلطانِ مدینۂ منورہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو تکبر کرتا ہے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اسے پست کردیتا ہے اور جو عاجزی و انکساری اپناتا ہے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اسے بلندی عطا فرماتا ہے۔‘‘(۲)
نیزحدیث قدسی ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: ’’عظمت میرا ازار ہے اور کبریائی میری چادر تو جو ان میں مجھ سے جھگڑے گا میں اسے تباہ وبربادکردوں گا۔‘‘(۳)
مناظر اپنے ہم عصروں اور ہم مثل لوگوں پر تکبر کرنے اور اپنی حیثیت سے بڑھ کر مرتبہ چاہنے سے نہیں بچ سکتا حتی کہ وہ مجالس میں بیٹھنے کی جگہ پر جھگڑتے ہیں ، بلند وپست جگہ، مقامِ صدارت سے قرب ودُوری اور راستے تنگ ہونے کی صورت میں پہلے داخل ہونے پر مقابلہ کرتے ہیں ۔ کبھی ان میں سے غبی، مکار اور دھوکے باز بہانہ کرتا ہے کہ وہ توعلم کی حفاظت چاہتا ہے اور ’’مومن کو اپنے نفس کی تذلیل سے منع کیا گیا ہے۔‘‘(۴)
پس وہ تواضع جسے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور تمام انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے قابل تعریف قرار دیا اسے ذلت سے تعبیر کرتا ہے اورتکبر جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک براہے اسے دین کی عزت بتاتا ہے ۔ ناموں میں تحریف کرتا ہے تاکہ اس کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرے جس طرح حکمت اور علم وغیرہ ناموں میں تحریف کی گئی۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…جامع بیان العلم وفضلہ، باب حکم قول العلماء بعضھم فی بعض، الحدیث:۱۱۸۳، ص۴۳۵۔
2…سنن ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب البراء ۃ من الکبر والتواضع، الحدیث:۴۱۷۶، ج۴، ص۴۵۸۔ موسوعۃ الامام ابن ابی الدنیا، کتاب التواضع والخمول، الحدیث:۷۷، ج۳، ص۵۵۲۔
3…سنن ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب البراء ۃ من الکبر والتواضع، الحدیث:۴۱۷۳، ج۴، ص۴۵۷۔ المستدرک، کتاب الایمان، باب اھل الجنۃ، المغلوبون الضعفاء…الخ، الحدیث:۲۰۹، ج۱، ص۲۳۵۔
4…سنن الترمذی، کتاب الفتن، باب۶۷، الحدیث:۲۲۶۱، ج۴، ص۱۱۲۔