Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
164 - 1087
دوسری فصل:		مناظرے کی ا ٓفات اور اس سے جنم لینے والی
	ہلاکت خیز عادات
	جان لیجئے اور یقین کرلیجئے کہ جو مناظرہ غالب آنے، سامنے والے کو خاموش ولاجواب کرنے،اپنی فضیلت وعزت ظاہر کرنے، لوگوں کے سامنے منہ کھول کر باتیں کرنے، فخر وغرور، حجت بازی اور لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کی نیت سے ہو وہ ان تمام مذموم صفات کی بنیاد ہے جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک بری اور دشمن خدا ابلیس کو اچھی لگتی ہیں ۔ اس کی نسبت تکبر، خودپسندی، حسد، بغض، پاک بازبننے اور حبِّ جاہ وغیرہ باطنی برائیوں کی طرف ایسی ہے جیسے شراب پینے کی نسبت ظاہری برائیوں یعنی زنا، تہمت، قتل اور چوری کی طرف اور جیسے وہ شخص کہ جسے شراب پینے اور دوسری برائیوں کے درمیان اختیار دیا جائے تو وہ شراب کو معمولی سمجھ کر پی بیٹھے پھر شراب کے نشے میں بقیہ گناہوں کا بھی ارتکاب کر بیٹھے۔ اس طرح جس پر دوسروں کو خاموش ولاجواب کرنے، مناظرے میں غلبہ پانے، حبِّ جاہ، فخروغرور کی خواہش غالب ہو تو یہ چیز اسے دل کی تمام باطنی برائیوں کی طرف لے جائے گی اور اس کے نفس میں تمام بری صفات کی خواہش جوش مارے گی۔ مہلکات کے بیان میں قرآن وحدیث سے ان صفات کی برائی کے دلائل آئیں گے لیکن فی الحال ہم ان تمام بری صفات کی طرف اشارہ کریں گے جو مناظرے کے سبب وجود میں آتی ہیں ۔ چنانچہ،
مناظرے کے باعث پید ہونے والی بری صفات:
{1}…حسد: سرکارِمدینہ، راحت ِقلب و سینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔‘‘(۱)
	مناظر حسد سے نہیں بچ سکتا کیونکہ کبھی وہ غالب آتا ہے اور کبھی مغلوب ہوجاتا ہے۔ کبھی اس کے کلام کی تعریف کی جاتی ہے اور کبھی دوسرے کے کلام کو اچھا کہا جاتا ہے۔ پس جب تک دنیا میں ایک شخص بھی ایسا زندہ رہے گا جس کے قوتِ علم اور قوتِ اجتہاد کا ذکر کیا جائے گا یا اس کے خیال میں اس کا کلام اچھا اور فکر مضبوط ہوگی تو وہ ضرور اس سے حسد کرے گا اور اس سے زوالِ نعمت کی تمنا کرے گا اور پسند کرے گا کہ لوگوں کے دل اس کی طرف سے پھرکر میری
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…سنن ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب الحسد، الحدیث:۴۲۱۰، ج۴، ص۴۷۳۔